بچوں کے جنسی ڈیپ فیک، یورپ میں ایلون مسک کے گروک کی ’سنجیدگی‘ سے تحقیقات
ایکس یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت تحقیقات کے دائرے میں ہے (فوٹو: اے ایف پی)
یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ ان شکایات کا ’بہت سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے‘ کہ ایلون مسک کا اے آئی ٹول گروک واضح طور پر بچوں جیسی تصاویر بنانے اور پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پیرکو یورپی یونین کے ڈیجیٹل امور کے ترجمان تھامس ریگنیئر نے صحافیوں کو بتایا کہ’گروک اب واضح جنسی مواد دکھا رہا ہے، اور اس میں کچھ آؤٹ پٹ بچوں جیسی تصاویر کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ یہ غیر قانونی ہے۔ یہ خوفناک ہے، اس کا یورپ میں کوئی مقام نہیں ہے۔‘
جب دسمبر کے آخر میں جنریٹیو اے آئی ٹول کے لیے ایک ’ایڈٹ امیج‘ کا بٹن متعارف کرایا گیا تو یہ شکایات آنا شروع ہوئیں۔
لیکن گروک بنانے والی کمپنی نے اس ماہ کے شروع میں کہا کہ وہ اپنے اے آئی ٹول کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے۔
پیرس کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے بھی ایکس کے خلاف تحقیقات کو وسعت دی ہے تاکہ نئے الزامات کو شامل کیا جا سکے کہ گروک بچوں کی فحش تصاویر بنانے اور پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
برسلز نے دسمبر میں پلیٹ فارم پر 120 ملین یورو (140 ملین ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا تھا کیونکہ اس نے یورپی یونین کے ڈیجیٹل مواد کے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی، خاص طور پر اشتہارات میں شفافیت اور صارفین کی تصدیق کے طریقوں کے حوالے سے۔
ایکس اب بھی یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت تحقیقات کے دائرے میں ہے، جو دسمبر 2023 میں شروع ہوئی تھیں۔
کمیشن، جو یورپی یونین کا ڈیجیٹل نگران ادارہ ہے، نے ہولوکاسٹ سے متعلق تبصروں کے بارے میں بھی ایکس سے معلومات طلب کی ہیں۔
ریگنیئر نے کہا کہ ایکس نے کمیشن کی معلومات کی درخواست کا جواب دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ایکس بخوبی جانتا ہے کہ ہم ’ڈی ایس اے‘ کے نفاذ کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں، انہیں وہ جرمانہ یاد ہوگا جو انہیں دسمبر میں ہوا تھا۔ لہٰذا ہم تمام کمپنیوں کو تعمیل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں کیونکہ کمیشن نفاذ کے بارے میں سنجیدہ ہے۔‘
