Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات میں تین افراد ہلاک، 58 زخمی

وزارتِ دفاع کے مطابق امارات نے اب تک 165 میں سے 152 بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں شروع کیے گئے جوابی حملوں کے بعد سے اب تک ملک میں تین افراد ہلاک اور 58 زخمی ہو چکے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق وزارتِ دفاع کے مطابق ’امارات نے اب تک 165 بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی کی جن میں سے 152 کو تباہ کر دیا گیا جبکہ دو کروز میزائلوں کو بھی فضا میں مار گرایا گیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مجموعی طور پر 541 ایرانی ڈرونز کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 506 کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘
حکام کے مطابق ’حملوں میں جان کی بازی ہار جانے والوں میں ایک پاکستانی، ایک نیپالی اور ایک بنگلہ دیشی شہری شامل ہے۔‘
ابوظہبی کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو بتایا کہ ’ایک روکے گئے (انٹرسپٹ) ڈرون کا ملبہ اس کمپلیکس پر گرا جہاں اسرائیلی سفارت خانہ اور دیگر بین الاقوامی مشنز قائم ہیں، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کے بچے کو معمولی زخم آئے۔ ڈرون کا ملبہ اتحاد ٹاورز کمپلیکس کی بیرونی دیوار سے ٹکرایا، جبکہ میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے باعث پورے امارت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔‘
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سنیچر کو ایران پر حملوں کے بعد تہران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم حالیہ کارروائیوں میں خلیجی شہروں کے شہری اور تجارتی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے علاقائی ہوا بازی اور تجارتی مراکز متاثر ہوئے ہیں۔
دبئی میں دو گھروں پر ڈرون کے ٹکڑے گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔ دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈا، معروف برج العرب ہوٹل اور پام جمیرہ جزیرہ بھی متاثر ہوئے جبکہ ابوظہبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نقصان پہنچا۔ دبئی مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا سیاحتی اور تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے اور اس کا ہوائی اڈا دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔
جبل علی بندرگاہ کے علاقے سے اتوار کو بھی سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے رہے جہاں روکے گئے میزائل کے ملبے سے ایک برتھ میں آگ لگ گئی تھی۔
دوسری جانب عمان سنیچر کو ایران کے جوابی حملوں سے محفوظ رہا تھا تاہم اتوار کو دقم کی تجارتی بندرگاہ کو دو ڈرونز نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک غیرملکی کارکن زخمی ہو گیا۔

جبل علی بندرگاہ کے علاقے سے اتوار کو بھی سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے رہے (فوٹو: اے ایف پی)

عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ’ایک ڈرون کارکنوں کی رہائش گاہ پر گرا جبکہ دوسرے کا ملبہ ایندھن کے ٹینکوں کے قریب گرا تاہم کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔‘
سعودی عرب نے اپنے بیان میں عمان کے خلاف ایرانی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے خلیجی برادر ملک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
قطر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ’ایک صنعتی علاقے میں روکے گئے میزائل کے ملبے سے محدود نوعیت کی آگ لگی جس پر قابو پا لیا گیا۔‘
قطر کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب 65 میزائل اور 12 ڈرون داغے گئے، جن میں سے بیشتر کو ناکام بنا دیا گیا تاہم آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ کے ہوائی اڈے کو بھی ڈرون حملے سے معمولی نقصان پہنچا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ’صرف سنیچر کو ایران نے 135 میزائل اور 209 ڈرون فائر کیے۔
خلیجی ممالک میں مقیم بڑی غیرملکی آبادی کے لیے یہ صورتحال شدید تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ ریاض میں مقیم ایک لبنانی خاتون نے کہا کہ وہ دھماکوں کی آوازیں سن کر خوف زدہ ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ لبنان کے مقابلے میں زیادہ محفوظ زندگی کی امید پر خلیج آئی تھیں، مگر اب حالات غیریقینی ہو گئے ہیں۔‘

شیئر: