جاپان میں چھ اعشاریہ دو شدت کا زلزلہ، ’سونامی کا خطرہ نہیں‘
حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد بلٹ ٹرین کی سروس معطل کر دی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
جاپان میں چھ اعشاریہ دو شدت کے زلزلے نے وسیع علاقے کو ہلا کر رکھ دیا جس کے بعد کافی تعداد میں آفٹر شاکس بھی آتے رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جاپان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ منگل کو چوکوگو ریجن میں آنے والے زلزلے کا مرکز شیمانے کے علاقے پریفیکچر میں تھا۔
بیان میں کسی سونامی کا خطرہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ اسی علاقے میں شیمانے پاور سٹیشن بھی موجود ہے۔
جاپان کی نیوکلیئر ریگولیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔
اتھارٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ پلانت کے یونٹ نمبر دو پر زلزلے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کو 2011 میں فوکوشیما میں آنے والی ایک قدرتی آفت کے بعد بند کیا گیا تھا اور اب دسمبر 2024 کے بعد سے کام کر رہا ہے۔
جاپان میں زلزلے آنا عام سی بات سمجھی جاتی ہے کیونکہ وہ دنیا کے خطوں میں سے ایک ہے جو ان مقامات پر واقع ہیں جو زلزلے کے لحاظ سے ایکٹیو تصور کیے جاتے ہیں۔
زلزلے کی شدت جاپان کے ایک سے سات تک سکیل کے لحاظ سے پانچ سے اوپر کی سطح کی تھی، جو اس قدر شدید ہوتی ہے کہ سہارے کے بعد حرکت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
زلزلے کے بعد مغربی جاپان کے محکمہ ریلوے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شین اوساکا اور ہاکاٹہ کے درمیان چلنے والی شینکاسن بلٹ ٹرین کی سروس کو معطل کر دیا گیا ہے۔