مادورو کو ہٹائے جانے کے باوجود وینزویلا کی افواج حکومت کی وفادار رہیں: سابق سکیورٹی حکام
مادورو کو ہٹائے جانے کے باوجود وینزویلا کی افواج حکومت کی وفادار رہیں: سابق سکیورٹی حکام
منگل 6 جنوری 2026 18:06
جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے وینزویلا کے سابق سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ نکولس مادورو کی بطور صدر ہٹائے جانے کے باوجود وینزویلا میں حقیقی تبدیلی نہیں آئی اور مسلح افواج حکومت کی وفادار رہیں۔
وینزویلا کی سپیشل ایکشن فورسز میں 2019 تک خدمات انجام دینے والے سابق افسر ولیمز کینسینو نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات چیت میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔
واضح رہے کہ سپیشل ایکشن فورسز وینزویلا میں مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن میں استعمال ہوتی رہی ہیں اور ملک میں ہونے والے حالیہ متنازع انتخابات کے بعد یہ نکولس مادورو کی حکومت کے ساتھ کھڑی رہیں۔
انہوں ںے امید ظاہر کی کہ 25 برس کے جبر، معاشی بدحالی اور یک جماعتی حکمرانی کے بعد یہ وینزویلا کے لیے آزادی کی شروعات ہو سکتی ہیں۔
اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ولیمز کینسینو ںے مزید کہا کہ ’اگر وینزویلا میں واقعی حالات تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ملک کی طاقتور سکیورٹی سروسز میں ’ایک نئی ہائی کمان کا ہونا ضروری ہے۔‘
ایسا لگتا ہے کہ ملک میں طاقت کا محور وزیر داخلہ ڈیوسڈاڈو کابیلو اور وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو ہیں اور دونوں امریکی حکام کو مطلوب ہیں۔
فوج اور یہاں تک کہ نکولس مادورو کے بیٹے نے اُن کی سابق نائب صدر اور قریبی معتمد، نئی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا ہے۔
ایک سابق کرنل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال مسلح افواج کی قیادت کی حیثیت آمرانہ حکومت کے ایک دُم چھلے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’نکولس مادورو کو ہٹائے جانے کے بعد ’ہائی کمان‘ کو بھی ’مستعفی ہو جانا چاہیے۔‘
ایک سابق فوجی افسر کہنا ہے کہ ’نکولس مادورو کو ہٹائے جانے کے بعد وینزویلا کی ہائی کمان بھی مستعفی ہو جائے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایک سابق جاسوس کلبرتھ ڈیلگاڈو نے وینزویلا میں تبدیلی سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیلسی روڈریگز کے وفادار کمانڈر تاحال اپنے اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔‘
سابق ساتھیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے والے سابق افسران نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ موجودہ فوجی قیادت کی جگہ ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔
کلبرتھ ڈیلگاڈو کا کہنا تھا کہ ’ہم نئی حکومت کی حمایت کے لیے مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں، وہ حکومت جو انتخابات میں منتخب ہوئی ہے، لیکن تاحال اس بات کے امکانات کم ہیں کہ ایسا ہوگا۔‘
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جن کا سیاسی کیریئر کیوبا اور لاطینی امریکہ میں جمہوریت کے لیے مہم چلاتے ہوئے گزرا ہے، کا کہنا کہ ’وینزویلا میں الیکشنز ہماری ترجیح نہیں ہیں۔‘