Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران پر حملے کا فیصلہ مکمل طور پر اپنی مرضی اور شرائط کے مطابق کیا، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے ایران پر حملے کے فیصلے کی وجوہات کو واضح اور مؤثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا تھا کہ امریکہ نے اُس وقت کارروائی کی جب اسے اطلاع ملی کہ اسرائیل جلد حملہ کرنے والا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے بیان نے پیر کے روز ڈیموکریٹس کو تشویش میں مبتلا کر دیا جن کا موقف ہے کہ جنگ کا اعلان صرف کانگریس کر سکتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان سے کہ ’ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیل کی طرف سے کارروائی ہونے والی ہے‘، صدر ٹرمپ کے کئی حامیوں کے لیے بھی پریشان کُن تھا۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’ہم جانتے تھے کہ اس کے نتیجے میں امریکی فوج پر حملہ ہو سکتا ہے، اور ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ اگر ہم نے ان پر پہلے حملہ نہ کیا تو ہمیں زیادہ جانی نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے۔‘
انتظامیہ کے عہدیداروں نے جلد ہی وضاحت پیش کی اور کہا کہ صدر ٹرمپ نے حملے کی اجازت اس لیے دی کیونکہ تہران جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے پر سنجیدگی سے بات چیت نہیں کر رہا تھا، اور امریکہ کے لیے ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا ضروری تھا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر لکھا کہ مارکو روبیو نے یہ نہیں کہا کہ اسرائیل نے صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلا۔
بعد میں اوول آفس میں جرمنی کے چانسلر سے ملاقات کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ ’جس طرح مذاکرات چل رہے تھے، مجھے لگا کہ وہ یعنی ایران پہلے حملہ کرنے والا تھا، اور میں ایسا نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس لیے شاید میں نے ہی اسرائیل کو قدم اُٹھانے پر مجبور کیا ہو۔‘
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے اراکین سے ملاقات کے بعد بھی اپنے مؤقف پر زور دیا اور کہا کہ ’نہیں، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ بہرحال ہونا ہی تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’صدر نے ایک فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ یہ تھا کہ ایران کو اس صلاحیت کے پیچھے چُھپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس کے ذریعے وہ حملہ کر سکتا ہے۔‘
ناقدین نے متضاد بیانات کو بنیاد بنا کر صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بغیر واضح وجہ کے، کانگریس کو اعتماد میں لیے بغیر اور انجام کے بارے میں کسی واضح منصوبے کے بغیر ملک کو جنگ کی طرف دھکیل دیا۔
انہوں نے یہ بھی یاد دہانی کرائی صرف دو ہفتے پہلے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واشنگٹن میں امریکی صدر سے دوبارہ سخت مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ گزشتہ سال اقتدار میں واپسی کے بعد ان کی ساتویں ملاقات تھی۔
کچھ ریپبلکن اتحادی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں سامنے آئے۔ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ٹام کاٹن نے زور دے کر کہا کہ ’کوئی بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو کہیں دھکیل یا گھسیٹ نہیں سکتا۔‘
انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ وہ امریکہ کے اہم قومی سلامتی کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔
تاہم جیسے جیسے اہم وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، جن میں ریپبلکن اپنی کانگریسی اکثریت سے محروم ہو سکتے ہیں، صدر ٹرمپ کو یہ اندیشہ ہے کہ وہ اپنے اُن حامیوں کی حمایت کھو دیں گے جو بیرونِ ملک فوجی مداخلتیں ختم کرنے کے وعدے پر ان کے ساتھ کھڑے تھے۔
صدر ٹرمپ کی سابق قریبی اتحادی اور سخت گیر دائیں بازو کی نمایاں رہنما مارجوری ٹیلر گرین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’اب ہمارا ملک دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جو اسرائیل کے لیے جنگیں لڑنا چاہتے ہیں، اور دوسرے وہ جو صرف امن چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنے بل اور صحت بیمہ کے اخراجات ادا کر سکیں۔

 

شیئر: