کوئٹہ کی نجی نرسری میں نومولود کی مبینہ تبدیلی، والد کو بچے کی جگہ بچی دے دی
بدھ 7 جنوری 2026 20:30
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
نظام الدین کا کہنا ہے کہ ’سول ہسپتال کے ریکارڈ میں بچے کی جِنس واضح طور پر لکھی ہے‘ (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)
کوئٹہ کی نجی نرسری میں مبینہ طور پر نومولود بچے کی تبدیلی کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے اہلِ خانہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ تین جنوری کو سول ہسپتال کوئٹہ میں اُن کے ہاں لڑکے کی پیدائش ہوئی تھی، تاہم بچے کی صحت خراب ہونے پر اُسے ڈاکٹرز کے مشورے پر علاج کے لیے جناح روڈ پر سول ہسپتال کے قریب واقع نجی نرسری کے انکیوبیٹر میں رکھا گیا۔
بچے کے والد نظام الدین نے الزام عائد کیا ہے کہ تین روز بعد جب لواحقین بچہ لینے واپس آئے تو نرسری انتظامیہ نے لڑکے کے بجائے لڑکی حوالے کر دی۔
لواحقین اور سماجی کارکنوں نے واقعے کے خلاف نرسری کے باہر احتجاج کیا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی اور دھوکہ کیا گیا ہے، معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
لواحقین کے احتجاج کے بعد پولیس موقعے پر پہنچ گئی اور تھانہ سٹی میں نومولود بچے کے والد نظام کی مدعیت میں نجی نرسری کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال صورتِ حال واضح نہیں ہے، نرسری انتظامیہ واضح بیان نہیں دے رہی، لہٰذا بچی اور والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس سے تمام صورتِ حال واضح ہو جائے گی۔
نظام الدین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سول ہسپتال کا ریکارڈ موجود ہے جس میں بچے کی جِنس واضح طور پر لکھی ہے۔
نرسری کے رجسٹرڈ اور فائل میں بھی بچے کی جِنس پہلے انگریزی حروف تہجی ’ایم‘ یعنی میل لکھی تھی، تاہم بعد میں اسے قلم سے مٹا کر ایف کو مٹا کر ایم یعنی فی میل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اندراج کے بعد نرسری کے عملے کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔نرسری کے مالک کی گرفتاری کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
