Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی افغانستان کے خلاف کارروائی کو ’غضب للحق‘ کا نام کیوں دیا گیا؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن ’غضب للحق‘ نے نہ صرف عسکری بلکہ لسانی اور علامتی حوالے سے بھی توجہ حاصل کی ہے۔
یہ نام اپنی ترکیب، معنی اور تاریخی پس منظر کے باعث سوشل میڈیا بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس آپریشن کو پاکستان نے افغان سرحد پار حملوں کے جواب میں شروع کیا جسے سرکاری طور پر ’بلااشتعال جارحیت کا جواب‘ قرار دیا گیا ہے۔  
بظاہر آپریشن کے اس نام میں جہاں عسکری کارروائی کی نشاندہی واضع ہے اسی طرح اس کے اندر ایک علامتی پیغام بھی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان کی عسکری تاریخ میں آپریشنز کے ناموں کے انتخاب کی ایک روایت رہی ہے۔
غضب للحق سے متعلق بھی کئی سوشل میڈیا صارفین یہ پوچھتے دکھائی دیے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے استاد ڈاکٹر جمیل اختر کہتے ہیں کہ ’غضب للحق‘ عربی زبان کی ترکیب ہے جسے تین حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ لفظ ’غضب‘ عربی زبان میں شدید غصے، جوش یا ردعمل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ محض جذباتی غصہ نہیں بلکہ اکثر مذہبی یا اخلاقی سیاق میں ’حق کے دفاع میں سخت ردعمل‘ کے معنی بھی دیتا ہے۔
دوسرا جز ’لِل‘ دراصل ’لام‘ اور ’ال‘ کا مرکب ہے جس کا مطلب ہوتا ہے ’کے لیے‘ یا ’کی خاطر‘۔ اور تیسرا لفظ ’حق‘ عربی میں سچائی، انصاف، درستگی اور جائز حق کے معنی رکھتا ہے۔ قرآن اور اسلامی فقہ میں ’حق‘ کا لفظ انصاف اور درست موقف کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
اس طرح مکمل ترکیب ’غضب للحق‘ کا لفظی مطلب بنتا ہے ’حق کے لیے غضب‘ یا ’انصاف کے لیے ردعمل‘۔  تو آسانی سے اس کو کہا جا سکتا ہے کہ ’انصاف کے لیے غصہ‘ یا ’انصاف کے لیے ردعمل‘، عربی قواعد کے لحاظ سے یہی درست اور قابل فہم تعبیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصطلاحی طور پر یہ نام اس تصور کو ظاہر کرتا ہے کہ کارروائی کو جارحیت نہیں بلکہ ’حق کے دفاع‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لفظ ’غضب‘ عربی اور اسلامی روایت میں کبھی منفی معنی میں نہیں بلکہ اکثر حق کی حمایت میں طاقتور ردعمل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

گزشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے دوران آپریشن ’بنیان المرصوص‘ کا نام رکھا گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی فوجی آپریشنز کے نام عام طور پر علامتی ہوتے ہیں اور اکثر مذہبی یا عربی زبان سے لیے جاتے ہیں۔ ان ناموں کا مقصد کارروائی کو ایک اخلاقی یا نظریاتی پس منظر دینا بھی ہوتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں بڑے آپریشنز میں ضرب عضب کا نام خاص طور پر نمایاں رہا۔ ’ضرب‘ کا مطلب ضرب لگانا یا وار کرنا جبکہ ’عضب‘ پیغمبر اسلام کی تلوار کا نام بتایا جاتا ہے۔ اس طرح اس ترکیب کا مفہوم بنتا ہے ’فیصلہ کن ضرب‘ یا ’حق کی تلوار کا وار‘۔
اسی طرح ایک اور اہم نام ردالفساد تھا جس کا مطلب ہے ’فساد کا خاتمہ‘ یا ’بدامنی کا رد‘۔ اس نام میں بھی عربی زبان کے ذریعے ایک اخلاقی مقصد ظاہر کیا گیا تھا۔
گزشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے دوران آپریشن ’بنیان المرصوص‘ کا نام رکھا گیا تھا جس کا مطلب ہے ’سیسہ پلائی دیوار‘۔ یہ ترکیب قرآن کریم کی آیت سے لی گئی ہے جس میں متحد ہو کر لڑنے والوں کو مضبوط دیوار سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس نام کی وضاحت اس وقت سرکاری سطح پر بھی کی گئی تھی کیونکہ یہ عام لوگوں کے لیے قدرے مشکل تھا۔
اسی طرح حالیہ آپریشن ’غضب للحق‘ بھی اسی روایت کا تسلسل نظر آتا ہے جس میں عربی ترکیب کے ذریعے ایک اخلاقی اور نظریاتی تاثر دیا جاتا ہے۔

اگر گزشتہ بیس برسوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فوجی آپریشنز کے ناموں میں عربی زبان کا غلبہ رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

البتہ اس روایت میں ایک نمایاں استثنیٰ 2019 میں پاکستان انڈیا کشیدگی کے دوران سامنے آیا جب انڈین فضائیہ کے حملے کے جواب میں پاکستان نے جوابی کارروائی کو ’آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ‘ کا نام دیا۔ اسی کارروائی کے دوران انڈین پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ نام مکمل طور پر انگریزی میں تھا اور اس کا مطلب تھا ’تیز اور فوری جواب‘۔ یہ ان چند مواقع میں سے ایک تھا جب پاکستانی فوجی کارروائی کا نام عربی یا مذہبی حوالوں کے بجائے انگریزی میں رکھا گیا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ انڈیا کے خلاف یہ آپریشن ٹھیک اسی تاریخ یعنی 27 فروری کو ہی کیا گیا۔ جب غضب للحق أفغانستان کے خلاف جاری ہے۔
اگر گزشتہ بیس برسوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فوجی آپریشنز کے ناموں میں عربی زبان کا غلبہ رہا ہے جبکہ انگریزی نام بہت کم رکھے گئے ہیں۔

 

شیئر: