Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’امریکی انٹیلیجنس کی صدر ٹرمپ کے ایرانی میزائل کے دعوے کی تردید‘

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران ’ایسے میزائل پر کام کر رہا ہے جو جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ کہ ایران جلد ہی ایسا میزائل تیار کر لے گا جو براہِ راست امریکہ کو نشانہ بنا سکے امریکی انٹیلی جنس رپورٹس سے مطابقت نہیں رکھتا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے واقف تین ذرائع کے مطابق اس دعوے کی تائید میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، جس سے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے جواز پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
منگل کو کانگریس سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران ’ایسے میزائل پر کام کر رہا ہے جو جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔‘ تاہم دو انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کی 2025 کی غیرخفیہ رپورٹ میں ایسی کوئی تازہ تبدیلی نہیں کی گئی، اور اس کے مطابق ایران کو بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) بنانے کے قابل ہونے میں 2035 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے صدر کے خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران جیسے ملک کے ہاتھ میں آئی سی بی ایم کا امکان ’سنگین خطرہ‘ ہے، کیونکہ وہ امریکہ کے خلاف کھلے عام نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم ایک انٹیلی جنس ذریعے کا کہنا ہے کہ چین یا شمالی کوریا کی تکنیکی مدد کے باوجود ایران کو کم از کم آٹھ سال درکار ہوں گے کہ وہ عملی طور پر قابلِ استعمال آئی سی بی ایم تیار کر سکے۔
ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں کسی ایسی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کا علم نہیں جس میں کہا گیا ہو کہ ایران امریکہ کو نشانہ بنانے والا میزائل بنانے کے قریب ہے۔ البتہ انہوں نے نئے یا خفیہ جائزے کے امکان کو رد بھی نہیں کیا۔
ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم کسی پیش رفت کے آثار نہیں مل رہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران کے علاقائی کردار، مبینہ طور پر مظاہرین کے قتل، اور میزائل و ایٹمی پروگرام کو امریکہ اور خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جان بوجھ کر اپنے میزائلوں کی رینج دوہزار کلومیٹر سے کم رکھتا ہے (فوٹو: اے پی)

ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام دوبارہ تعمیر کرنا شروع کر چکا ہے، حالانکہ آئی اے ای اے اور امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران نے اپنا ایٹمی ہتھیار پروگرام 2003 میں بند کر دیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انڈین میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ ایران جان بوجھ کر اپنے میزائلوں کی رینج دوہزار کلومیٹر سے کم رکھتا ہے اور اسے عالمی خطرہ نہیں بنانا چاہتا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کے پاس خطے کی سب سے بڑی بیلسٹک میزائل فورس ہے، مگر اسے ایسے ری انٹری وہیکل کے حصول میں اب بھی طویل سفر طے کرنا ہے جو جوہری ہتھیار کو فضا سے دوبارہ داخلے کے دوران محفوظ رکھ سکے۔

 

شیئر: