Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کی لعنت جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہے: دفتر خارجہ

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ ہندوستان‘ کی جانب سے مسلسل ہونے والے دہشت گردانہ حملوں اور 26 فروری کی رات طالبان انتظامیہ کی تازہ ترین بلا اشتعال اور جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں، پاکستان کی بہادر افواج نے ٹارگٹڈ آپریشنز کیے ہیں۔
دفتر خارجہ نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ ان کارروائیوں میں دہشت گرد گروہوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا اور افغانستان میں موجود ان کے لاجسٹک سپورٹ بیسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ’پاکستان کے یہ اقدامات اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شہریوں، خطے اور اس سے باہر کے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔‘
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ’طالبان انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیزی، یا کسی بھی دہشت گرد گروہ کی جانب سے پاکستان کے عوام کی سلامتی اور فلاح و بہبود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا نپا تلا، فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘
’پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہشمند ہے اور افغان سرزمین سے اٹھنے والے دہشت گردی کے فتنے سے نمٹنے کے لیے صبر و تحمل کے ساتھ سیاسی و سفارتی کوششوں میں مصروف رہا ہے۔ تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ پاکستان کے خیر سگالی کے متعدد اقدامات اور انتہائی ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو غلط سمجھا گیا، جس کے نتیجے میں طالبان انتظامیہ اور انڈیا کی فعال حمایت اور پشت پناہی سے افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا۔‘
’پاکستان افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے اور افغان انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس چھوٹ کا خاتمہ کرے جس کے تحت ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ ہندوستان‘ افغان سرزمین سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ عالمی برادری بھی طالبان انتظامیہ کو یہ واضح پیغام دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے اور ان کی حمایت بند کرنے کی اپنی ذمہ داریوں سے انحراف جاری نہ رکھے۔‘
وزیراعظم اور کابینہ کا جی ایچ کیو کا دورہ
دوسری جانب وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی پاکستان کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے (فوٹو: آئی ایس پی آر)

وزیراعظم نے جمعے کو وفاقی کابینہ کے ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا جہاں عسکری قیادت نے انہیں افغانستان کے ساتھ موجودہ صورت حال پرمفصل بریفنگ دی۔
اس موقعے پر انہوں نے کہا کہ ’فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے گٹھ جوڑ اور شر پسند کاروائیوں کے لیے زیرو ٹالرنس اپنائی جائے۔‘
’چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان ملک کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔‘
وزیرِاعظم نے افغان طالبان رجیم کے سرحدی علاقوں میں حملوں کو پسپا کرنے پر اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے پر افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم ارض وطن کی حفاظت کے لیے اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

شیئر: