میٹرو پولیٹین پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ ’اطلاع ملنے کے دو منٹ کے اندر افسران موقع پر پہنچ گئے تھے۔ مجسمے پر سابق برطانوی رہنما کو ’صہیونی جنگی مجرم‘ قرار دینے کے ساتھ ساتھ ’فری فلسطین‘ اور ’نسل کشی بند کرو‘ جیسے نعرے بھی تحریر کیے گئے تھے۔
واقعے کے بعد صفائی ستھرائی کے عملے نے فوری طور پر مجسمے سے نعرے مٹانے کا کام شروع کر دیا۔ گریٹر لندن اتھارٹی نے اس عمل کو تخریب کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نعروں کو جلد از جلد ہٹایا جا رہا ہے۔‘
وزیراعظم کیئر سٹامر کے دفتر ’ڈاؤن سٹریٹ 10‘ نے اس واقعے کو ’انتہائی قابلِ نفرت‘ قرار دیتے ہوئے پولیس کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چرچل ایک عظیم برطانوی رہنما تھے اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔‘
دوسری جانب ایک ڈچ کارکن اولیکس آؤٹس نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں اس اقدام کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ پیغام فلسطینی قیدیوں کے حامی گروپ ’پرزنرز فار فلسطین‘ کی جانب سے شیئر کیا گیا۔ پیغام میں کہا گیا کہ اگر یہ ویڈیو دیکھی جا رہی ہے تو امکان ہے کہ وہ لندن کی کسی جیل میں موجود ہوں۔
صفائی ستھرائی کے عملے نے فوری طور پر مجسمے سے نعرے مٹانے کا کام شروع کر دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
مجسمے پر ’گلوبلائز دی انتفاضہ‘ کا نعرہ بھی درج تھا۔ پولیس پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ ایسے نعرے لگانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی کیونکہ انہیں بعض حلقوں کی جانب سے نفرت انگیزی اور تشدد پر اکسانے سے جوڑا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ چرچل کا تقریباً 12 فٹ بلند مجسمہ ماضی میں بھی متعدد بار نشانہ بن چکا ہے، خصوصاً 2020 میں بلیک لائیوز میٹر اور ماحولیاتی تنظیموں کے احتجاج کے دوران بھی اس پر توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔