Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہسپتالوں پر اسرائیلی حملے، لبنان میں ہزاروں حاملہ خواتین طبی سہولیات سے محروم

اقوامِ متحدہ کے مطابق لبنان میں بے گھر ہونے والوں میں تقریباً 13,500 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں (فوٹو: یو این)
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یو این پاپولیشن فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں خواتین اور لڑکیاں ایک بڑھتے ہوئے انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہیں، کیونکہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملے طبی سہولیات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ بیان اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب پیر کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں جنوبی شہر صور کے ایک ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا اور بیسیوں افراد زخمی ہوئے۔
عرب نیوز کے مطابق ادارے کی لبنان میں نمائندہ آنندیتا فلپوس نے منگل کو ملک بھر میں ’شدید خوف، غیر یقینی صورتِ حال اور کشیدگی‘ کی کیفیت بیان کی۔
انہوں نے کہا کہ ’جنگ بندی کے باوجود لڑائی نہیں رکی۔ لبنان بھر کے لوگ، خاص طور پر خواتین اور لڑکیاں، شدید تشدد، نقل مکانی اور جانی نقصان کا سامنا کر رہی ہیں۔‘
پیر کے حملے میں صور کے جبل عامل ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس حملے میں کم از کم 86 افراد زخمی ہوئے جن میں طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں جبکہ ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ ہسپتال جنوبی لبنان میں کام کرنے والے چند فعال ہسپتالوں میں سے ایک تھا۔
حالیہ دنوں میں صور ضلع میں طبی سہولیات کو خاص طور پر شدید نقصان پہنچا ہے۔ 31 مئی کو ہرام ہسپتال بھی ایک اسرائیلی حملے میں متاثر ہوا۔ صور میں باقی رہ جانے والا تیسرا اور واحد ہسپتال لبنانی اطالوی ہسپتال اب بھی کام کر رہا ہے مگر زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع سے متاثرہ چھ ہسپتال ابھی تک زچگی کی خدمات مکمل طور پر بحال نہیں کر سکے اور اس وقت صرف ایمرجنسی علاج فراہم کر رہے ہیں۔
آنندیتا فلپوس نے بتایا کہ ’صرف گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک بنیادی طبی مرکز اور خواتین و بچیوں کے لیے محفوظ مقام کو نقصان پہنچا، جسے اقوام متحدہ کا ادارہ تعاون فراہم کر رہا تھا۔‘

اسرائیل اور لبنان کے درمیان 2 مارچ سے شروع ہونے والی کشیدگی میں اب تک طبی مراکز پر 190 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے (فوٹو: یو این)

انہوں نے کہ’ یہ ان چند مراکز میں سے ایک تھا جو اب بھی فعال تھے اور اس علاقے میں جان بچانے کے لیے خدمات فراہم کر رہے تھے۔ ایک اور حملے میں ایک سرکاری ہسپتال کو بھی نقصان پہنچا، جہاں زچگی کی سہولیات موجود تھیں۔ جنوبی لبنان میں ایسے صرف تین ہسپتال ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب زچگی کے وارڈ اور ہسپتال تباہ ہوتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان حاملہ خواتین کو ہوتا ہے، جو جان بچانے والی سہولیات سے محروم ہو جاتی ہیں۔‘
ادارے کے مطابق لبنان میں بے گھر ہونے والوں میں تقریباً 13,500 حاملہ خواتین شامل ہیں، جن میں سے 1,500 آئندہ 30 دنوں میں بچوں کو جنم دیں گی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد سے اب تک طبی مراکز پر 190 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 128 طبی کارکن ہلاک اور 332 زخمی ہوئے۔ صرف گزشتہ ایک ہفتے میں 11 حملے ہوئے۔

ضلع صور کے جبل عامل ہسپتال پر ہونے والے حالیہ حملے میں کم از کم 86 افراد زخمی ہوئے (فائل فوٹو: اے پی)

عالمی ادارۂ صحت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس وقت تقریباً 130,000 افراد لڑائی سے بچنے کے لیے پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، اور حالیہ انخلا کے احکامات کے بعد نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارہ ان پناہ گاہوں میں بیمار شہریوں کی نگرانی کر رہا ہے اور شدید اسہال کے کیسز میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث لبنان میں انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 مارچ کے بعد سے اب تک 3,400 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 10,400 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

شیئر: