اثرا میں ’خشبوؤں کی کہانی‘ مقبول، 85 ہزار افراد کی شرکت
تقریبات میں کئی ملکوں کی ثقافتیں ایک چھت کے نیچے باہم جمع ہو گئیں (فوٹو: ایس پی اے)
کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر میں، جسے اثراء بھی کہتے ہیں، عید الضحٰی کی خوشیوں کی تقریبات کے دوران تقریباً 85 ہزار افراد نے شرکت کی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق چار روز جاری رہنے والی ان تقریبات کے شرکاء، ثقافتی سفر کے ایک بہترین تجربے سے گزرے جس میں اسلامی دنیا کے چھ ممالک سے عید کی روایات کو یکجا کر کے ان کے سامنے رکھا گیا۔
یہ تجربات کسی ایک مقام پر محدود نہیں تھے بلکہ اثراء کے تحت فراہم کی جانے والی مختلف سہولتوں تک پھیلے ہوئے تھے جہاں عید کے مختلف پہلوؤں کو بالکل ویسے ہی طریقوں اور روایتوں کے ذریعے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔ اِن میں میزبانی اور مہمان نوازی بھی تھی، عید سے وابستہ کہانیاں بھی تھیں، طرح طرح کی پرفارمنسز تھیں، ورکشاپس تھیں اور تھیئیٹر بھی شامل تھا۔
ان تقریبات میں کئی ملکوں کی ثقافتیں ایک چھت کے نیچے باہم جمع ہو گئیں جن میں سعودی عرب، عمان، مصر، مراکش، انڈونیشیا اور اُزبکستان شامل ہیں۔
چھ ثقافتوں کے اس طرح یکجا ہونے کی وجہ سے تقریبات کے شرکا کو عید سے جُڑے ہوئے اُن رواجوں اور روایتوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا جو ان چھ ممالک میں عید کے دنوں میں سامنے آتی ہیں۔

تقریبات کا آغاز روایتی میزبانی سے ہوا جہاں مہمانوں کو سعودی کافی اور عمان کی کڑک چائے پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ مراکش اور انڈونیشیا کے روایتی طریقوں سے بنائی جانے والی چائے بھی مہمانوں کے سامنے رکھی گئی جبکہ مصری کی کرکدیہ چائے اور ازبکستان کی گرین ٹی بھی توجہ کا مرکز رہیں۔
’اے سٹوری اِن ایوری سینٹ‘ یا خشبوؤں کی کہانی کے نام سے ہونے والے مشاغل نے ایک معطر تجربے کے ذریعے لوگوں میں عید کی یادیں تازہ کر دیں اور انھیں ہر ملک سے منسلک خوشبویات کے متعلق جاننے کے کچھ نہ کچھ ملا۔

تقریب کے شرکا کو طائف کے گلابوں، عمانی لوبان اور ازبکستان کی عمدہ خوبانی کی مہک کا حسی تجربہ بھی حاصل ہوا۔