Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایک شاخ سے نئی زندگی تک: حباک کے خوبصورت گھونسلے کی بُنائی کی داستان

عسیر ریجن کی وادیوں اور لہلہاتے کھیتوں میں دلکش مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بلند و بالا سرسبز درختوں پر سنہری زردی مائل رنگ کا پرندہ حباک (بیا) اپنی چونچ میں گھاس کا تنکا لیے نمودار ہوتا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ پرندہ کسی شاخ کو منتخب کرکے وہاں اپنا گھونسلا بنانا شروع کرتا ہے جو فطرت کے سب سے منفرد گھونسلوں میں سے ایک ہے۔
یہ پرندہ ایسی مہارت سے اپنا آشیانہ بناتا ہے کہ اسے دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ یہ مہارت اسے فطرت نے عطا کی ہے جس کی وجہ سے اسے بہترین معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
افزائشِ نسل کے سیزن میں نر حباک اپنے اطراف میں موجود نرم گھاس اور نباتاتی ریشے جمع کرتا ہے۔ خصوصاً بارش کے بعد جب گھاس دھل کر صاف ہو جاتی ہے۔
پھر ایک بلند اور محفوظ شاخ کا انتخاب کرتا ہے تاکہ گھونسلہ بنا سکے جو ممکنہ طور پر ساتھی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا عمل ہوتا ہے۔

سنہ 2016 میں کنگ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے شائع کتاب ’جزیرہ نمائے عرب کے افرائشِ نسل کرنے والے پرندے‘ میں بتایا گیا کہ نر حباک پرندہ جس شاخ کو اپنے آشیانے کے لیے منتخب کرتا ہے سب سے پہلے اس کے گرد ایک گول دائرہ بناتا ہے جو گھونسلے کی بنیاد تصور کی جاتی ہے۔
بعد ازاں وہ اپنی چونچ اور پنجوں کی مدد سے مہارت کے ساتھ گھاس کو بُنتا ہے، یہاں تک کہ ایک لٹکی ہوئی ٹوکری نما سی چیز وجود میں آجاتی ہے۔

یہ گھونسلہ، مکمل ہونے کے بعد ایک مضبوط پناہ گاہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے جس میں داخل ہونے والا راستہ نچلی جانب ہوتا ہے۔ گھونسلے کی یہ ساخت انڈوں اور بچوں کو شکاری جانوروں اور موسمی اثرات سے محفوظ رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔
ہر برس افزائشِ نسل کے سیزن میں یہ پرندہ درختوں کو درجنوں گھونسلوں سے سجا دیتا ہے۔ یہ منظر خوبصورتی اور انجینیئرنگ کی باریکیوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ گھانس کے سادہ پتے ایک پیچیدہ گھونسلے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
یہ بقا کی ایک ایسی داستان ہوتی ہے جس کا آغاز ایک شاخ سے ہو کر ایسے گھونسلے پر ختم ہوتی ہے جہاں نئی زندگی پروان چڑھتی ہے۔

حباک یا بیا کے گھونسلے اس بات کی نمایاں مثال ہیں کہ جاندار اپنی بقا اور افزائشِ نسل کے لیے کس قدر موثر انداز میں خود کو ماحول کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
گھونسلے کے مقام کے انتخاب سے لے کر اس کی بُنائی اور داخلی راستے تک تمام تفصیلات ایسے فطری حل کی عکاسی کرتی ہے جس میں مختلف خطرات سے بھی تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔

 

شیئر: