Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے کویت، بحرین پر میزائل حملے، امن مذاکرات کی ناکامی کی خبروں کے بعد امریکہ کا جوابی حملہ

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک جہاز ’پانایا‘ کو نشانہ بنایا (فوٹو: اے ایف پی)
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدھ کو اچانک بڑھ گئی جب ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اثاثوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ ان حملوں میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹرز، ایک ایئر بیس اور ہیلی کاپٹر شامل تھے۔ واشنگٹن نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روک کر جوابی کارروائی کی۔
خبر رساں ایجنسیوں روئٹرز، اے ایف پی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب  نے کہا کہ اس نے میزائل اور ڈرون حملے کیے تاکہ امریکی حملے کا جواب دیا جا سکے جو قشم جزیرے کے جنوب میں ایک کمیونیکیشن ٹاور پر کیا گیا تھا۔
ایرانی میڈیا نے مزید رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک جہاز ’پانایا‘ کو نشانہ بنایا، جس پر الزام تھا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر حملہ کیا تھا۔
ایرانی میڈیا نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو نقصان پہنچانا امریکی فوج کے لیے بھاری قیمت کا باعث ہوگا۔ دوسری طرف کویت کی فوج نے کہا کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا، جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو پناہ لینے کی ہدایت دی گئی۔
امریکی فوج نے ایران کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے قشم جزیرے پر حملے اس وقت کیے جب ایران کی جانب سے کویت اور بحرین پر داغے گئے میزائل اور ڈرون ناکام بنا دیے گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے کہا کہ ایران نے بیلسٹک میزائل داغے لیکن وہ کسی ہدف کو نشانہ نہیں بنا سکے۔
یہ سب اس وقت ہوا جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات روک دیے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس اور تسنیم نے رپورٹ کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی دنوں سے رابطہ نہیں ہوا۔ حالانکہ گزشتہ ہفتے دونوں ممالک نے ایک ابتدائی فریم ورک پر اتفاق کیا تھا لیکن کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے دعوے کو ’غلط اور بے بنیاد‘ قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’بات چیت ہر روز ہو رہی ہے، اور ایران کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ معاہدہ کرے گا یا نہیں۔‘

ایران چاہتا ہے کہ اس کے اربوں ڈالر کے منجمند اثاثے بحال ہوں، پابندیاں ختم ہوں اور آبنائے ہرمز پر اس کا دباؤ برقرار رہے (فوٹو: روئٹرز)

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس میں کہا کہ ایران کو جوہری سرگرمیوں سے دستبردار ہونا ہوگا ورنہ پابندیوں میں نرمی نہیں کی جائے گی۔
ایران چاہتا ہے کہ اس کے اربوں ڈالر کے منجمند اثاثے بحال ہوں، پابندیاں ختم ہوں اور آبنائے ہرمز پر اس کا دباؤ برقرار رہے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اولین مقصد ہے۔
یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی جس میں زیادہ تر ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی توانائی مارکیٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے، تقریباً بند ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی بھی شدت اختیار کر گئی ہے، جس سے 12 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
عالمی تجارتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ عراق کے ام قصر بندرگاہ پر ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یونیسف نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی لاگت اور سپلائی چین میں رکاوٹیں انسانی امداد کو غزہ، لبنان، افریقہ اور دیگر بحران زدہ علاقوں تک پہنچنے سے روک رہی ہیں۔

 

شیئر: