سعودی عرب میں اقامہ و لیبر قوانین کی 18 ہزار خلاف ورزیاں، 10 ہزار کو واپس بھیجا گیا
وزارت داخلہ کے ٹول فری نمبروں پر خلاف ورزیوں کی اطلاع دی سکتی ہے۔ (فائل فوٹو)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزیوں پر مزید 18 ہزار836 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 10 ہزار 195 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ یکم سے 7 جنوری 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 11 ہزار 710 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار239 کوغیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزار 887 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 741 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 60 فیصد ایتھوپین، 39 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 46 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 19 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
وزارت داخلہ کے ٹول فری نمبروں پر مملکت میں خلاف ورزیوں کی اطلاع کی جا سکتی ہے۔
