Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گرین فنانس، سعودی عرب کی پائیدار ترقی کی مہم کا نیا محرک

گرین فنانس کی اہمیت اس کی اس صلاحیت میں ہے کہ یہ بیک وقت دو اہداف حاصل کرتا ہے یعنی معاشی تنوع اور ماحولیاتی پائیداری (فوٹو: اکانومی مڈل ایسٹ ڈاٹ کام)
سعودی عرب کے وژن 2030 کی معاشی تنوع سے متعلق ایجنڈے کے پیش نظر، ملک کے پائیدار ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت اور طویل المدتی معاشی نمو کو برقرار رکھنے کے لیے گرین فنانس ایک انتہائی اہم ذریعہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔
 عرب نیوز کے مطابق رینیوایبل انرجی اور گرین ہائیڈروجن سے لے کر پائیدار بنیادی ڈھانچے اور صاف ذرائعِ نقل و حمل تک، گرین فنانس ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کی فراہمی میں مدد کر رہا ہے جن کا مقصد مملکت کی معیشت اور ماحولیاتی اثرات کو ایک نیا رخ دینا ہے۔
اگرچہ گرین فنانس اکثر بڑے منصوبوں کے پیچھے پسِ پردہ کام کرتا ہے، لیکن اس وقت یہ ملک میں جاری معاشی و معاشرتی تبدیلی کی پیش رفت میں اہم کرادار کا حامل ہو چکا ہے۔
احمد الحربی کی ’جرنل آف انوائرمنٹل مینجمنٹ اینڈ ٹورازم‘ میں 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق جس کا عنوان ہے ’سعودی عرب میں پائیدار ترقی کے لیے گرین فنانسنگ‘، اُس کے مطابق، گرین فنانس کو مملکت کی پائیدار ترقی کا ایک اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق میں یہ موقف پیش کیا گیا کہ گرین فنانسنگ رینیوایبل انرجی، پائیدار بنیادی ڈھانچے اور ماحولیات پر مرکوز منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کے راستے ہموار کر کے وژن 2030 کو براہِ راست سہارا دیتی ہے۔
تحقیق کے مطابق ’سعودی عرب کی پائیدار ترقی کی طرف منتقلی میں گرین فنانسنگ انتہائی اہم ہے، خاص طور پر وژن 2030 کے ایجنڈے کے تناظر میں۔‘
تحقیق میں ان منصوبوں کی اقسام کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں عام طور پر گرین فنانس کی حمایت حاصل ہوتی ہے، جیسے گرین فنانسنگ کے ذریعے فنڈ حاصل کرنے والے منصوبے عام طور پر قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت اور زمین کے پائیدار استعمال پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، شمسی توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد نہ صرف توانائی کے ذرائع میں تنوع لاتا ہے بلکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی نمایاں کمی کرتا ہے۔
معیشت دان اور فنانشل تجزیہ کار طلعت زکی حافظ نے عرب نیوز کو بتایا کہ گرین فنانس مملکت کی معاشی اور ماحولیاتی تبدیلی کے لیے سرمائے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔

فوٹو: عرب نیوز

انہوں نے کہا کہ ’2016 میں سعودی وژن 2030 کے آغاز کے بعد سے، مملکت نے رینیوایبل انرجی، گرین ہائیڈروجن اور دیگر کم کاربن والی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایک زیادہ متنوع اور پائیدار معیشت کی جانب اپنے سفر کو تیز تر کیا ہے۔ اس تبدیلی کو گرین فنانس کی تیز رفتار پیش رفت سے مسلسل سہارا مل رہا ہے، جو ڈی کاربنائزیشن، ہائیڈرو کاربنز پر انحصار کو کم کرنے اور پائیدار معاشی نمو کو آگے بڑھانے کے لیے درکار سرمائے کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔‘
گرین فنانس کی اہمیت اس صلاحیت میں ہے کہ یہ بیک وقت دو اہداف حاصل کرتا ہے یعنی معاشی تنوع اور ماحولیاتی پائیداری۔ اس لحاظ سے، یہ وژن 2030 میں ممد ایک اہم مالیاتی ستون بن چکا ہے کیونکہ بڑے پروجیکٹس سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں اور کلین انرجی، ڈی کاربنائزیشن اور پائیداری کے دیگر اہداف کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
بینکاری کا شعبہ بھی اس تبدیلی میں روز بروز نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ الراجحی بینک میں کارپوریٹ بینکنگ کے جنرل منیجر حسین طلال بیاری نے عرب نیوز کو بتایا کہ مملکت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ پائیدار فنانسنگ کی طلب میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
حسین طلال بیاری نے کہا کہ ’ آج ہم وژن 2030 سے وابستہ منصوبوں کی وسعت کے باعث مملکت میں پائیدار فنانسنگ کو ابتدائی اقدامات کے مرحلے سے نکل کر بڑے پیمانے پر عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے تجربے کے مطابق، طلب بنیادی طور پر رینیوایبل انرجی کے منصوبوں، پانی کے بنیادی ڈھانچے، صاف ذرائعِ نقل و حمل، اور توانائی کی بچت و کارکردگی سے متعلق پروجیکٹس پر مرکوز ہے۔‘
الراجحی بینک مملکت میں پائیدار فنانسنگ کے اس فروغ کی ایک بہترین مثال ہے۔ حسین طلال بیاری نے بتایا کہ بینک کے قابلِ ترجیح ماحولیاتی اثاثے تقریباً 1.8 ارب سعودی ریال تک پہنچ چکے ہیں، جو رینیوایبل انرجی، صاف ذرائعِ نقل و حمل، پانی کے منصوبوں اور توانائی کی کارکردگی کے شعبوں پر محیط ہیں۔
انہوں نے بینک کی مالیاتی سرگرمیوں کے قابلِ پیمائش ماحولیاتی اثرات کو بھی اجاگر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’حالیہ برسوں میں بینکنگ کا شعبہ ایک بنیادی تبدیلی سے گزرا ہے۔ ماضی میں تمام تر توجہ صرف مالی امداد فراہم کرنے پر مرکوز تھی، جبکہ آج مالیاتی ادارے پائیدار معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اثرات کے حامل شعبوں کی طرف سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں ایک کلیدی شراکت دار بن چکے ہیں۔‘
’الراجحی بینک میں، پائیدار فنانسنگ کا پورٹ فولیو 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 8.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو 33.3 ارب سعودی ریال سے زیادہ کے مساوی ہے۔ اس پورٹ فولیو کے تحت مالی امداد حاصل کرنے والے منصوبوں نے سالانہ 2,17,000  ٹن سے زائد کاربن اخراج کو روکنے میں بھی مدد فراہم کی ہے۔ یہ تبدیلی روایت پسندی سے نکل کر ذمہ دارانہ فنانسنگ کی طرف پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے، جو معاشی ترقی اور طویل المدتی اثرات کے درمیان توازن قائم رکھتی ہے۔‘
حافظ نے کہا کہ مملکت کی گرین فنانس حکمتِ عملی کی طویل المدتی کامیابی کا انحصار بالآخر اس صلاحیت پر ہوگا کہ وہ پائیدار فنانسنگ کو سرمائے کا ایک مرکزی ذریعہ بنا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ اگر اگلے 5 سے 10 سالوں میں گرین فنانس سرمائے کا ایک ایسا اہم ذریعہ بن جاتا ہے جو سرمایہ کاری، جدت، صنعتی تنوع اور پائیدار معاشی نمو کو آگے بڑھائے، تو سعودی عرب کی گرین فنانس حکمتِ عملی کو ایک واضح کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔‘

جیسے جیسے مملکت میں یہ تبدیلی آگے بڑھ رہی ہے، ماحولیاتی فائدے اور روزگار کے نئے مواقع سے لے کر صنعتی تنوع اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات تک، پوری معیشت میں گرین فنانسنگ کے اثرات مزید نمایاں ہونے کی توقع ہے۔
مملکت کی پائیداری کی اس مہم کے پیچھے موجود مالیاتی نظام بہت کم ہی ان منصوبوں جیسی عوامی توجہ حاصل کر پاتے ہیں جن کی وہ مالی امداد کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، گرین فنانس خاموشی سے کام کرنے والی ان اہم قوتوں میں سے ایک بنتا جا رہا ہے جو صاف توانائی، صنعتی ڈی کاربنائزیشن اور دیگر پائیدار شعبوں میں سعودی عرب کے عزم کو حقیقت میں بدلنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔

 

شیئر: