اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ وزیراعظم تک پہنچ گیا، وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب
اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ وزیراعظم تک پہنچ گیا، وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب
جمعرات 8 جنوری 2026 15:55
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
وزیر داخلہ کی ہدایت پر سی ڈی اے حکام وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ دیں گے (فائل فوٹو: اے پی پی)
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کو معاملے پر بریفنگ دینے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ پارلیمنٹ ہاؤس بھی پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر فیصل سلیم نے معاملے پر چیئرمین سی ڈی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اس حوالے سے چیئرمین سی ڈی اے کو بھی 19 جنوری کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ چند روز سے اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر سوشل میڈیا پر کافی بحث جاری ہے۔ ماہرین ماحولیات اور اسلام آباد کے رہائشی سی ڈی اے پر الزام لگا رہے ہیں کہ ہزاروں درخت بغیر مناسب منصوبہ بندی کے کاٹ دیے گئے ہیں۔ سی ڈی اے کا موقف کیا ہے؟
اس حوالے سے سی ڈی اے کا موقف ہے کہ عدالتی حکم کے تحت صرف وہ درخت ہٹائے گئے ہیں جو پولن الرجی کا سبب بن رہے تھے۔
سی ڈی اے کا مزید کہنا ہے کہ اسلام آباد میں پولن الرجی کا سبب بننے والے 29 ہزار سے زائد درخت کاٹے گئے ہیں، جبکہ یہ آپریشن صرف پولن الرجی کے درختوں، خصوصاً جنگلی شہتوت کے خلاف تین مراحل پر سائنسی بنیادوں پر مکمل کیا گیا ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد کے ایف نائن پارک، شکرپڑیاں اور بڑے سیکٹرز سے پولن الرجی کا سبب بننے والے جنگلی شہتوت کے درخت کاٹے گئے ہیں۔
سی ڈی اے کے مطابق ’اسلام آباد میں پولن الرجی کا سبب بننے والے جنگلی شہتوت کے درخت کاٹے گئے ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مزید بتایا گیا ہے کہ ’ہر ہٹائے گئے درخت کے بدلے تین نئے مقامی درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اب تک متعلقہ علاقوں میں 40 ہزار سے زائد ماحول دوست درخت لگائے جا چکے ہیں۔‘
اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کا عمل مختلف مقامات پر جاری ہے، تاہم سب سے زیادہ توجہ شہر کے معروف سیاحتی مقام شکرپڑیاں پر مرکوز رہی ہے جہاں گارڈن ایوینیو سے متصل جنگل کا ایک بڑا حصہ درختوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد کے پارک روڈ، مری روڈ، ایف نائن پارک اور نئی بننے والی شاہراہوں کے اطراف بھی درختوں کی کٹائی کے حوالے سے ویڈیوز منظرِعام پر آچکی ہیں۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ ’پولن الرجی کا سبب بننے والے درختوں کی کٹائی مکمل کرنے کے بعد ان مقامات پر پہلے سے زیادہ تعداد میں نئے درخت لگائے گئے ہیں۔‘
شہری اور ماہرین موحولیات سی ڈی اے کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر رہے، ان کا کہنا ہے کہ ’جنگلی شہتوت کے ساتھ بڑی تعداد میں دیگر درختوں کو بھی کاٹ دیا گیا ہے۔‘