کیس نمبر 9 کے بعد کیس نمبر 10، ’میری کہانیوں میں ہمیشہ مضبوط خواتین ہوں گی‘
کیس نمبر 9 کے بعد کیس نمبر 10، ’میری کہانیوں میں ہمیشہ مضبوط خواتین ہوں گی‘
پیر 12 جنوری 2026 11:14
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
شاہ زیب خانزادہ کے مطابق کیس نمبر 9 کی مقبولیت کے بعد انہوں نے اگلا ڈرامہ کیس نمبر 10 بھی لکھ لیا ہے۔ (فوٹو: سمتھنگ ہاٹ، یوٹیوب)
پاکستان کے مقبول ترین ڈرامہ ’کیس نمبر 9‘ کے خالق اور معروف اینکر شاہ زیب خانزادہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے اگلے ڈرامے ’کیس نمبر 10‘ پر کام مکمل کر چکے ہیں۔
سمتھنگ ہاٹ نامی یوٹیوب چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے شاہ زیب خانزادہ نے بتایا کہ کیس نمبر 9 کی غیرمعمولی کامیابی نے انہیں فوراً اگلا پروجیکٹ شروع کرنے پر آمادہ کیا اور اسی رفتار کے ساتھ انہوں نے کیس نمبر 10 کا مکمل سکرپٹ لکھ لیا ہے۔
شاہ زیب خانزادہ کے مطابق کیس نمبر 10 ایک مرڈر مِسٹری (قتل پر مبنی کہانی) ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرائم اور مِسٹری ڈرامے عموماً معیاری انداز میں نہیں لکھے جاتے، اسی لیے انہوں نے خود یہ چیلنج لیا کہ ایک سنجیدہ، تحقیقاتی اور مضبوط کہانی تخلیق کی جائے۔
ان کے بقول ’جب چیلنج محسوس ہو تو مجھے لکھنے کا شوق آتا ہے، اس لیے کیس نمبر 10 بھی اسی جذبے سے لکھا ہے۔‘
شاہ زیب خانزادہ نے واضح کیا کہ ’کیس نمبر 10 کا سکرپٹ مکمل ہو چکا ہے، تاہم اس کے آن ایئر ہونے کی ٹائم لائن تاحال طے نہیں کی گئی۔ شاہ زیب خانزادہ نے یہ بھی کہا کہ ان کے تمام ڈراموں کی ایک بنیادی پہچان رہے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میری سکرپٹس میں ہمیشہ مضبوط خواتین ہوں گی، کمزور عورتیں نہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ کیس نمبر 9 کی طرح کیس نمبر 10 میں بھی خواتین کردار مرکزی اور طاقتور ہوں گے۔
کیس نمبر 9: ایک غیر معمولی کامیابی
ڈرامہ کیس نمبر 9 نہ صرف ریٹنگز بلکہ تنقیدی سطح پر بھی ایک تاریخی کامیابی ثابت ہوا۔ آئی ایم ڈی بی کے مطابق یہ پاکستان کا اب تک کا سب سے زیادہ ریٹڈ ڈرامہ قرار پایا ہے۔
کیس نمبر 9 آئی ایم ڈی پر 9.1 کی ریٹنگ حاصل کر چکا ہے۔ (فوٹو:آئی ایم ڈی بی)
یہ کہانی سحر (صبا قمر) کے گرد گھومتی ہے، جو ایک مضبوط اور باوقار خاتون ہیں۔ وہ ایک طاقتور بزنس مین کامران کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں جو اسے دبانے اور کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سحر کی مزاحمت اور وقار کی جنگ نے ناظرین کو کافی متاثر کیا۔
ڈرامے میں شامل اہم فنکاروں میں صبا قمر، فیصل قریشی، رُشنا خان، نورالحسن، آمنہ شیخ، گوہر رشید، علی رحمان خان، جنید خان اور نوین وقار شامل تھے۔
شاہ زیب خانزادہ کے مطابق یہ ڈرامہ کسی ایک حقیقی واقعے پر مبنی نہیں تھا، بلکہ اس میں کئی حقیقی کیسز اور صحافتی تجربات کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ طاقتور لوگوں کی جانب سے متاثرہ فریق پر وکلا کے ذریعے دباؤ ڈالنے، تفتیشی افسران کا رویہ اور عدالتوں کا ماحول، یہ سب وہ چیزیں تھیں جو انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر میں خود دیکھی تھیں، اسی لیے انہیں ڈرامے کا حصہ بنایا گیا۔
اقلیتوں کی نمائندگی اور حقیقی کردار
شاہ زیب خانزادہ نے انکشاف کیا کہ روہت اور منیشا جیسے ہندو کردار ان کے ایک قریبی ہندو دوست اور اس کی اہلیہ سے متاثر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں اقلیتوں کو محض ٹوکن کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی، عام اور معاشرے کا حصہ بنا کر دکھانا چاہتے تھے۔
ڈرامہ میں روہت کا کردار جنید خان جبکہ منیشہ کا کردار نوین وقار نے ادا کیا ہے۔ (فوٹو: جیو انٹرٹینمنٹ)
انہوں نے بتایا کہ روہت کا کردار ان کی اپنی ٹیم کے ایک رکن سے متاثر تھا، منیشا کا کردار ان کی بیوی کے نام پر تھا، جبکہ شہباز اور عروسہ جیسے کردار بھی ان کے نیوز روم کے لوگوں سے لیے گئے تھے۔ یہاں تک کہ روہت اور منیشا کے بیٹے وکاس کا نام بھی ایک حقیقی دوست کے بیٹے سے لیا گیا، تاکہ کردار مصنوعی نہ لگیں۔
شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ جب وہ اپنے نیوز شو میں اقلیتوں کے حقوق پر بات کرتے تھے تو ان کمیونٹیز کی جانب سے غیر معمولی تشکر دیکھ کر انہیں احساس ہوتا تھا کہ مسئلہ کتنا گہرا ہے۔ اسی احساس نے انہیں کیس نمبر 9 میں یہ پہلو شامل کرنے پر مجبور کیا۔
حقیقت سے قریب تر مگر سنسرشپ کے سائے میں
شاہ زیب نے بتایا کہ ڈرامے میں کچھ قانونی اور آئینی حوالے جان بوجھ کر شامل کیے گئے تھے، خاص طور پر ججوں سے متعلق گفتگو۔ مگر پاکستان میں بدلتی آئینی صورتحال اور سنسرشپ کے باعث بعض مکالمے نشر نہ ہو سکے۔ اس کے باوجود شاہ زیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ اصل پیغام ناظرین تک پہنچا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈرامے میں دکھایا گیا نیوز روم اور عدالت کا رشتہ حقیقت سے ماخوذ تھا۔ ان کے مطابق کئی حقیقی کیسز میں ایسا ہوا ہے کہ میڈیا کی توجہ کے بعد ہی مقدمات آگے بڑھے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں بعض اوقات میڈیا اور سوشل میڈیا کے باوجود بھی انصاف نہیں ملتا۔
شاہ زیب خانزادہ: اینکر سے ڈرامہ رائٹر تک
شاہ زیب خانزادہ نے گفتگو میں بتایا کہ ان کا صحافتی پس منظر ہی ان کی تحریر کی بنیاد بنا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ گاؤں سے کراچی اور پھر پاکستان کے سب سے بڑے نیوز چینل تک کا سفر مسلسل سیکھنے کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا ’جس دن آپ یہ سمجھ لیں کہ آپ سب کچھ جانتے ہیں، اسی دن آپ سیکھنا بند کر دیتے ہیں۔‘ اسی سوچ کے تحت وہ اب ڈرامہ نویسی میں بھی خود کو ایک طالب علم سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ’کیس نمبر 10‘ سے بھی ناظرین کو ایک نئی، سنجیدہ اور اثر انگیز کہانی کی توقع ہے۔
جیسے کیس نمبر 9 نے پاکستانی ٹی وی ڈراموں کا معیار بدلنے میں اہم کردار ادا کیا، ویسے ہی اب ’کیس نمبر 10‘ سے یہ سوال جڑ گیا ہے کہ کیا شاہ زیب خانزادہ ایک بار پھر وہی جادو دکھا پائیں گے۔