’بے گناہوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا تھا‘، بونڈائی بیچ کے ہیرو احمد الاحمد کا انٹرویو
’بے گناہوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا تھا‘، بونڈائی بیچ کے ہیرو احمد الاحمد کا انٹرویو
پیر 29 دسمبر 2025 11:19
آسٹریلیا میں بونڈائی بیچ پر فائرنگ کرنے والوں میں سے ایک سے بندوق چھین کر کئی زندگیاں بچانے والے احمد الاحمد نے کہا ہے کہ ’میرا مقصد صرف معصوم لوگوں کو بچانا تھا۔‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں احمد الاحمد کا کہنا تھا کہ ’مجھے پتہ ہے کہ میں نے کافی لوگوں کو بچایا مگر جو جان سے گئے اس پر بہت افسوس ہے۔‘
یہ حملہ مبینہ طور پر ساجد اکرم اور ان کے بیٹے نوید اکرم نے 14 دسمبر کو اس وقت کیا تھا جب شہر سڈنی کے بونڈائی بیچ پر یہودی کمیونٹی کی تقریب جاری تھی۔ حکام کی جانب سے اقدام کو ’یہودی مخالف‘ اور دہشت گرد حملہ قرار دیا گیا تھا۔
اس واقعے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں کی تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے کے ساتھ ہی چند سیکنڈز کی ایک ایسی ویڈیو مںظرعام پر آئی جس میں ایک شخص فائرنگ کرنے والے کو پیچھے سے جا کر دبوچ لیتا ہے اور جھٹکا دے کر بندوق چھین لیتا ہے۔
بعدازاں ان کی پہچان احمد الاحمد کے نام سے ہوئی جن کا تعلق شام سے ہے اور وہ قریبی علاقے میں پھل بیچنے کا کام کرتے ہیں۔
اس دھینگا مشتی میں وہ گولی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے اور وزیراعظم انتھونی البانیز نے ہسپتال جا کر نہ صرف ان کی عیادت کی بلکہ ان کو ’قوم کا ہیرو‘ بھی قرار دیا۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے احمد الاحمد کی عیادت کی اور انہیں ’قوم کا ہیرو‘ قرار دیا تھا (فوٹو: ایسوسی ایٹڈ پریس)
اسی طرح ان کے نام پر ایک فنڈ بھی قائم کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں رقم اکٹھی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا ’میں نے کافی کا کپ خریدا اور جیسے ہی پینے کے لیے ہونٹوں کی جانب بڑھایا تو فائرنگ کی آواز سنی۔‘
احمد الاحمد کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا ٹارگٹ اس سے بندوق چھیننا اور معصوموں کے قتل سے روکنا تھا۔‘
انہوں نے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کیسے انہوں نے جمپ لگا کر حملہ آور کو پیچھے سے پکڑا اور اسے کہا کہ ’بندوق پھینک دو اور جو کر رہے ہو، اس سے باز آ جاؤ۔‘
ان کے مطابق ’میں لوگوں کو اپنے سامنے مرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا، خون نہیں دیکھنا چاہتا، اس کی بندوق کی آواز کو نہیں سننا چاہتا تھا۔ میں لوگوں کو چیختے اور زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔‘
دو بیٹیوں کے والد احمد الاحمد 2006 میں شام سے آسٹریلیا منتقل ہوئے تھے۔
شام میں ان کے آبائی علاقے النیرب میں رہائش پذیر ان کے چچا محمد نے چند روز پیشتر اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’احمد الاحمد کا اقدام پورے شام کے لیے فخر کا باعث ہے۔‘
باپ بیٹے نے اس وقت فائرنگ شروع کر دی تھی جب بونڈائی بیچ پر یہودیوں کی ایک تقریب جاری تھی (فوٹو: اے ایف پی)
بعدازاں میڈیا میں یہ بات بھی رپورٹ ہوئی کہ احمد الاحمد کے خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو آسٹریلوی حکومت نے ویزے جاری کیے ہیں۔
آسٹریلیا کے داخلی امور کے وزیر ٹونی برک نے واقعے کے بعد کہا تھا کہ ’احمد الاحمد نے بہت ہمت دکھائی اور ان اقدار کا مظاہرہ کیا جو کہ ہم آسٹریلیا کے اندر چاہتے ہیں۔‘
حملے کے بعد ایک حملہ آور 50 سالہ ساجد اکرم کو پولیس نے ہلاک کر دیا تھا جو ایک انڈین شہری تھا اور 1998 میں ویزے پر آسٹریلیا پہنچا تھا۔
اس کے ساتھ حملے میں 24 سالہ بیٹا نوید اکرم بھی شریک تھا جس کو احمد الاحمد نے پکڑ کر نہتا کر دیا تھا۔
اس وقت وہ زیر حراست ہے اور اس پر دہشت گردی، قتل اور بم دھماکوں کی منصوبوں کے چارجز لگائے گئے ہیں۔
ساجد اکرم کی جانب سے ابھی تک کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی ہے۔