Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کا سخت امیگریشن کریک ڈاؤن: امریکہ میں تشدد اور جھڑپیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امیگریشن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تارکین وطن اور امریکی شہریوں دونوں کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورت حال کی سنگین مثال اس ہفتے منیاپولس میں ایک خاتون کی ہلاکت ہے، جہاں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک افسر کی فائرنگ سے ایک مقامی خاتون ہلاک ہو گئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کے حکم پر ملک بدری کی کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے، نقاب پوش امیگریشن افسران نے ڈیموکریٹک قیادت والے شہروں میں چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران رہائشی علاقوں میں آنسو گیس کا استعمال، پارکنگ لاٹس میں لوگوں کو قابو میں کرنا اور ویڈیو بنانے والے راہگیروں پر اسلحہ تاننے جیسے واقعات سامنے آئے ہیں۔
گذشتہ ماہ منیاپولس میں ایک وفاقی افسر نے برف سے ڈھکی سڑک پر ایک خاتون کو گھسیٹا، جسے شہر کے پولیس چیف نے ’انسانی وقار کی صریح توہین‘ قرار دیا۔
امیگریشن کے موجودہ اور سابق حکام کے مطابق یہ متنازع واقعات امیگریشن انفورسمنٹ کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کا نتیجہ ہیں، جو ہزاروں نئے افسران کی تیز رفتار بھرتی اور تربیت کے دباؤ کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
گذشتہ برس مئی کے آخر میں وائٹ ہاؤس نے امیگریشن گرفتاریوں میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد افسران نے حکمت عملی بدلتے ہوئے سنگین مجرمان کے خلاف ہدفی کارروائیوں کے بجائے بڑے اور نمایاں چھاپوں کو ترجیح دینا شروع کر دی۔ اس کے بعد عوامی ردعمل اور مزاحمت میں اضافہ ہوا، اور بعض اوقات کشیدگی شدید تصادم کی شکل اختیار کر گئی۔
ان کارروائیوں کے حوالے سے جو بائیڈن کی انتظامیہ میں خدمات انجام دینے والے سابق آئی سی ای اہلکار سکاٹ شوچارٹ نے کہا کہ ’یہ انتہائی نمایاں، وسیع اور براہِ راست رابطے پر مبنی کارروائیاں ہیں جو خطرات کو دعوت دیتی ہیں۔‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر اور ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری نے اس آئی سی ای افسر کا دفاع کیا ہے جس نے 37 سالہ تین بچوں کی ماں رینی گُڈ کو ہلاک کیا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوئم نے اس آئی سی ای افسر کا دفاع کیا ہے جس نے 37 سالہ تین بچوں کی ماں رینی گُڈ کو ہلاک کیا۔ حکام نے ہلاک ہونے والی خاتون کو نفاذِ قانون کی کارروائی میں خلل ڈالنے والی ’اشتعال انگیز‘ شخصیت کے طور پر پیش کیا۔
واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر، نوئم نے الزام لگایا کہ گُڈ نے اپنی گاڑی سے افسر کو ٹکر مارنے کی کوشش کی، جسے انہوں نے ’اندرونی دہشت گردی‘ قرار دیا۔
روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان ابیگیل جیکسن نے ڈیموکریٹس اور میڈیا اداروں پر آئی سی ای افسران کو بدنام کرنے اور عوامی ردعمل کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ڈیموکریٹس کے جھوٹ نے براہِ راست ان کے حامیوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہراساں کرنے اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے پر اکسایا ہے، جس سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے اور افسران خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔‘

 

شیئر: