سعودی عرب کا یمن کی حکومت کے لیے نئی مالی امداد کا اعلان
یمن میں سعودی عرب کے سفیر اور بحالی نو کے سعودی پروگرام کے نگران محمد ال جابر نے مملکت کی قیادت کی ہدایت پر یمنی حکومت کو نئی مالی مدد فراہم کی ہے جس کا مقصد تمام شعبوں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق محمد ال جابر نے جمعرات کو ایک ایکس پوسٹ میں کہا کہ اس امداد سے ترقیاتی کاموں کی تکمیل کی جائے گی جو کہ ایک اعشاریہ نو ارب سعودی ریال پر مشتمل ہے اور اس پیکیج کا اعلان بدھ کو کیا گیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس پیکیج میں توانائی کے پلانٹس کو چلانے کے لیے درکار پیٹرول کی فراہمی بھی شامل ہے، اس سے یمن میں رہنے والے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور روز مرہ کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔‘
ان کی پوسٹ میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ سعودی قیادت میں کام کرنے والے اتحاد کی اعلیٰ ملٹری کمیٹی سے منسلک سکیورٹی فورسز کی تنخواہیں اتوار تک ادا کر دی جائیں گی۔

یہ پوسٹ میڈیا کی ان زیادہ تر رپورٹس سے مطابقت رکھتی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کے سابق سربراہ عیدروس الزبیدی جو یمن سے فرار ہو چکے ہیں، فوجی اہلکاروں کا فائدہ اٹھا رہے اور اپنے دباؤ کے ذریعے تنخواہیں روک رہے ہیں۔
عیدروس الزبیدی یمنی حکومت کو سنگین غداری اور بدعنوانی کی کارروائیوں کی وجہ سے مطلوب ہیں۔
علاوہ ازیں محمد ال جابر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات یمنی حکومت کی اقتصادی اصلاحات کی حمایت کے فریم ورک میں آتے ہیں اور ان کا مقصد ملک میں اقتصادی استحکام کا حصول اور ریاستی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔