برطانیہ کی جانب سے ایران سے وابستہ 12 افراد اور اداروں پر پابندیاں
لندن، واشنگٹن اور برسلز سبھی کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد کی ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس اور سلامتی سے وابستہ ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
برطانیہ نے ایران سے وابستہ ایک درجن افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن پر تہران کی جانب سے برطانیہ یا دیگر ممالک کو نشانہ بنانے والی ’معاندانہ سرگرمیوں‘ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو لندن میں فارن آفس نے اپنی سرکاری پابندیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے نو افراد، دو شیڈو بینکنگ ایکسچینج ہاؤسز اور مبینہ طور پر مجرمانہ ’زیندشتی نیٹ ورک‘ پر سفری پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
برطانوی حکومت اس نیٹ ورک کے مبینہ سربراہ ناجی ابراہیم شریفی زیندشتی پر سنہ 2024 میں امریکہ کے ساتھ مل کر پہلے ہی پابندیاں لگا چکی ہے جہاں اسے بین الاقوامی منشیات اور سمگلنگ کارٹل کا سربراہ قرار دیا گیا تھا۔
یورپی یونین نے گزشتہ برس اس نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
لندن، واشنگٹن اور برسلز سبھی کا دعویٰ ہے کہ ’یہ نیٹ ورک ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس اور سلامتی سے وابستہ ہے اور تہران کے ناقدین کے خلاف قتل اور اغوا کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔‘
برطانیہ کی جانب سے یہ حالیہ پابندیاں حالیہ مہینوں میں برطانیہ میں یہودی کمیونٹی پر ہونے والے حملوں اور حکام کی جانب سے بارہا دی جانے والی ان تنبیہات کے بعد لگائی گئی ہیں کہ یہ ریاستیں ایسے مقاصد کے لیے ’پروکسیز‘ کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
پیر کو برطانیہ کی جانب سے جن نو افراد پر پابندیاں لگائی گئیں ان میں ابراہیم شریف زیندشتی کا بھتیجا، ترک شہری اکرم عبدالکریم اوزتونچ بھی شامل ہے۔
لندن نے زرین قلم خاندان کے پانچ اراکین فرہاد، فضل اللہ، منصور، ناصر اور پوریا کو بھی نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے برطانیہ کو ’عدم استحکام‘ کا شکار کرنے کی کوششوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔
منصور، ناصر اور فضل اللہ زرین قلم پر گزشتہ سال امریکہ نے ایران کے ’شیڈو بینکنگ‘ نیٹ ورک میں ملوث ہونے کی بنا پر پابندیاں لگائی تھیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا تھا کہ ’تین کے اس گروپ نے فرنٹ کمپنیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے ایران کے لیے مجموعی طور پر اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی۔‘
لندن نے ان سے وابستہ ایران میں قائم دو ایکسچینج ہاؤسز، بریلین ایکسچینج اور جی سی ایم ایکسچینج کو بھی اپنی فہرست میں شامل کیا ہے جن پر امریکہ پہلے ہی پابندی لگا چکا ہے۔
فہرست میں شامل دیگر تین افراد جن پر سفری پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی کی گئی ہے، ان میں ایرانی شہری نہاد عبدالقادر اسان اور رضا حمیدی راوری، اور آذربائیجانی شہری نامق صالیوف شامل ہیں۔
