ہانگ کانگ آتشزدگی کی آڑ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش پر سزا ملے گی: چین کا انتباہ
ہانگ کانگ آتشزدگی کی آڑ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش پر سزا ملے گی: چین کا انتباہ
اتوار 30 نومبر 2025 10:12
بیجنگ کا کہنا ہے کہ چین کی مخالفت میں کسی بھی سرگرمی کی سزا ملے گی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ہانگ کانگ کی رہائشی عمارت میں لگنے والی خوفناک آگ پر غم و غصہ بڑھ رہا ہے جبکہ چین نے خبردار کیا ہے کہ اس واقعے کی آڑ میں شہر کے معمولات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی سرگرمی کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔
دوسری جانب 128 جانیں نگل جانے والے واقعے پر سوگ بھی جاری ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے معاملے سے واقفیت رکھنے والے دو سورسز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس نے سنیچر کو اس شخص کو حراست میں لیا جو اس گروپ کا حصہ تھا جس نے حکومت کے احتساب، ممکنہ بدعنوانی کی آزادانہ تحقیقات، رہائشیوں کے لیے مناسب انتظامات اور تعمیراتی کام کی نگرانی پر مشتمل مطالبات کی پٹیشن دائر کی۔
ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کا کہنا ہے کہ 14 سالہ یونیورسٹی سٹوڈنٹ مائلز کوان کو تائی پو کے علاقے وانگ فوک کو آتشزدگی کے معاملے پر لوگوں کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
ہانگ کانگ پولیس کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
گروپ کی طرف سے آن لائن کی گئی پٹیشن سنیچر کی دوپہر تک 10 ہزار افراد کے دستخطوں تک پہنچ گئی تھی۔
ایسے ہی مطالبات پر مشتمل ایک اور پٹیشن تائی پو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لانچ کی ہے جو بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔
کے وائی نے آن لائن پٹیشن کے کمنٹس سیکشن میں لکھا کہ ’ہانگ کانگ کے باسی سچ اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
چینی سرحد کے قریبی علاقے میں بلند و بالا عمارت میں لگنے والی آگ نے سات بلاکس کو لپیٹ میں لیا تھا جس پر پورا ہانگ کانگ حیرت میں مبتلا ہے اور غصے و مایوسی کی لہر تیز ہونے پر حکام نے کرپشن اور مجرمانہ غفلت کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
واقعے میں 128 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 150 ابھی تک لاپتہ ہیں اور آتشزدگی کی وجہ کا تعین ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔
واقعے کے بعد حکام کسی وسیع عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے تیاری کرتے نظر آ رہے ہیں۔ 2019 میں جمہوریت کے حامیوں کے مظاہروں نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد بیجنگ کی طرف سے قومی سلامتی کا قانون نافذ کیا گیا تھا۔
چین کے محکمہ قومی سلامتی سے تعلق رکھنے والے حکام نے ان افراد کو خبردار کیا ہے جو صورت حال کو شہر میں خرابی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
واقعے میں 128 افراد ہلاک ہوئے، حکام نے یہ تعداد بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’ہم چین کی مخالفت میں بدامنی پھیلانے والوں کو سختی سے متنبہ کرتے ہیں کہ جو اس واقعے کے نتیجے میں ہانگ کانگ میں تباہی پھیلانا چاہتے ہیں۔ آپ جو بھی طریقہ استعمال کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، آپ کو ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کے تحت یقیناً جواب دہ ہونا اور سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
بدترین آتشزدگی کے بعد 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے غیرمعیاری میٹیریل کے استعمال اور کرپشن سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
جمعے کے روز سائٹ پر ریسکیو کا کام مکمل کر لیا گیا تھا تاہم پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جلنے والی عمارت کے ملبے سے مزید لاشیں مل سکتی ہیں۔
بدھ کو تائی پو کے شمالی ضلع میں مرمت کے مراحل سے گزرنے والے وانگ فک کورٹ کے اپارٹمنٹ بلاکس پر موجود بانس کی سکیفولڈنگ کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پھر رہائشی کمپلیکس کے آٹھ میں سے سات بلاک بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے جو 32 منزلہ عمارت کا حصہ تھے، اس عمارت میں مجموعی طور پر 1984 فلیٹس ہیں۔