Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں ڈیجیٹل نظام کے تحت سرکاری بھرتیاں، ’پہلی بار خرید و فروخت نہیں ہوئی‘

کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی کے ہال میں آن لائن ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا۔ فوٹو: اے پی پی
بلوچستان میں پہلی مرتبہ سرکاری محکموں میں آسامیاں مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن نظام کے تحت پُر کی گئی ہیں جس کے لیے ایک ہی دن میں ٹیسٹ و انٹرویوز کے بعد نتائج کا اعلان اور تقرر نامے تقسیم کیے گئے۔
بلوچستان حکومت نے اسے شفافیت اور میرٹ کی جانب تاریخی قدم قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے صوبائی اسمبلی میں بحیثیت وزیراعلٰی اپنی پہلی تقریر میں سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت اور سفارش پر بھرتیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا جس کی عملی تعبیر کی گئی۔
محکمہ خزانہ بلوچستان میں گریڈ 14 کی سطح پر سب اکاؤنٹنٹ کی 111 آسامیوں کا اعلان کیا گیا تھا جس کے لیے صوبے بھر سے ساڑھے چھ ہزار سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں۔
ماضی میں اس طرز کی بھرتیوں کے لیے متعلقہ ڈویژن میں ٹیسٹ و انٹرویوز کا انعقاد کیا جاتا تھا جو محکمے کے افسران لیتے تھے اور اس عمل کی شفافیت اور میرٹ پر سوالات اُٹھتےتھے۔ تاہم اس بار تمام امیدواروں کو کوئٹہ بلایا گیا اور بیوٹمز یونیورسٹی کے بڑے ہال میں آن لائن ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا۔ میڈیا، سول سوسائٹی اور آزاد مبصرین بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حکام کے مطابق صوبے کی تاریخ میں پہلی بار پیپر لیس اور ڈیجیٹل نظام کے تحت امتحان لیا گیا۔ ہر امیدوار کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے الگ الگ سوالات دیے گئے اور ٹیسٹ مکمل ہوتے ہی فوری طور پر نتیجہ دکھا دیا گیا۔ شام تک نتائج کا اعلان ہوا اور کامیاب امیدواروں کو تقرر نامے بھی جاری کر دیے گئے۔  
ابتدا میں آن لائن نظام میں کچھ تکنیکی مسائل سامنے آئے اور سسٹم بیٹھ گیا تاہم بعد میں اسے بحال کرکے متاثرہ امیدواروں کو دوبارہ ٹیسٹ دینے کا موقع دیا گیا۔ صوبائی سیکریٹری خزانہ عمران زرکون نے بتایا کہ اس بار ٹیسٹ اور انٹرویوز بند کمروں میں نہیں بلکہ سب کے سامنے لیے گئے تاکہ شفافیت یقینی ہو۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہزاروں سوالات کا ڈیٹا بینک بنایا گیا تھا جس میں ہر امیدوار کو الگ الگ سوالات دیے گئے اور اس عمل میں کسی انسانی مداخلت کی گنجائش نہیں تھی۔
انہوں نے بتایا کہ سسٹم کو عام انٹرنیٹ سے الگ رکھا گیا کیونکہ غیرملکی ہیکرز کی جانب سے ہزاروں حملے کیے گئے تھے۔  
امیدواروں اور مبصرین نے مجموعی طور پر اس عمل کو شفاف قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور صحافی بایزید خان اور آغا عبید نے کہا کہ انہوں نے پہلی بار امیدواروں کو مطمئن دیکھا جنہیں ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ نوکریاں فروخت کی جاتی ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی ٹیسٹ کے اختتام پر امتحانی ہال میں پہنچے۔ فوٹو: وزیراعلیٰ ہاؤس

انہوں نے بتایا کہ کچھ تکنیکی اور انتظامی مسائل کے باوجود ٹیسٹ کے عمل میں شفافیت نظر آ رہی تھی۔ ایسا لگا کہ پہلی بار نوکریوں کی خرید و فروخت نہیں ہوئی۔ بلوچستان میں یہ ایک غیرمعمولی اقدام ہے اور مستقبل کی سرکاری نوکریوں میں بھی اسی طرح شفافیت برتی جائے تو اس کے بہت مثبت اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔
صحافیوں نے بتایا کہ اس بار امیدواروں سے امتحانی فارم کی کوئی فیس وصول نہیں کی گئی جبکہ ماضی میں صرف فارم کی فیس کی مد میں کروڑوں روپے جمع کیے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے مثال پیش کی کہ گزشتہ سال سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے ذریعے سکولوں میں اساتذہ کی آٹھ ہزار نشستوں پر بھرتی کے لیے لاکھوں امیدواروں نے ٹیسٹ دیا تھا اور اس طرح کروڑوں روپے کمائے گئے۔
امتحان کی نگرانی میں شریک ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ جب انہوں نے ایک امیدوار کو فون کر کے کامیابی کی اطلاع دی تو اسے یقین ہی نہیں آیا اور وہ فون کو مذاق یا پرینک کال سمجھ رہا تھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی ٹیسٹ کے اختتام پر امتحانی ہال میں پہنچے اور کئی امیدواروں کو خود فون کر کے کامیابی کی اطلاع دی۔ انہوں نے موقع پر موجود کامیاب امیدواروں کو تقرر نامے بھی تقسیم کیے۔
کامیاب امیدواروں نے کہا کہ انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ بلوچستان میں بھی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے مواقع مل سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس شفاف نظام نے ان کا اعتماد بحال کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ اقدام صوبے میں میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک تاریخی اور فیصلہ کن پیش رفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب بلوچستان کے عوام میں یہ امید تقریباً ختم ہو چکی تھی کہ یہاں میرٹ نافذ ہو سکے گا لیکن آج ہم نے سب کے سامنے ثابت کر دیا ہے کہ اگر ارادے مضبوط اور نظام شفاف ہو تو میرٹ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’آج بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا منظر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک عام مزدور کا بیٹا، ایک استاد کا بیٹا اور ایک وزیر کا بیٹا یکساں ماحول میں امتحان دے رہا ہے اور کامیابی کا واحد معیار میرٹ ہے۔‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت آئندہ دنوں میں ضلعی اور تحصیل سطح پر بھی اسی طرز کا جدید اور شفاف ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے گی تاکہ عوام کا اعتماد مستقل بنیادوں پر بحال ہو۔

ماضی میں سرکاری ملازمتیں دینے میں کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ فائل فوٹو: اے پی پی

انہوں نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن کی تشکیل نو اور مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جائے گی تاکہ اسے پاکستان کا بہترین ادارہ بنایا جا سکے۔
بلوچستان میں گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوتی ہیں لیکن اس سے نیچے گریڈ کی سرکاری نوکریوں پر براہ راست بھرتی کا اختیار متعلقہ محکموں کے پاس ہے۔
نچلی سطح کی ان بھرتیوں میں ہمیشہ شفافیت پر سوالات اٹھتے رہے اور نوکریاں وزراء، اراکین اسمبلی اور بااثر شخصیات کی سفارش یا پیسوں کے عوض فروخت کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ کئی بار انکوائریز اور نیب تحقیقات میں یہ الزامات درست بھی ثابت ہوئے۔
گزشتہ سال صوبے میں آٹھ ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتیوں میں بھی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے اور کہا گیا تھا کہ ناکام امیدواروں کو پاس کر کے بھرتی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے تسلیم کیا کہ خواتین نے اپنی بالیاں بیچ کر نوکریاں حاصل کیں اور پیسوں کے لین دین کی وجہ سے اس معاملے کو محکمہ اینٹی کرپشن کو بھیجا گیا۔  

 

شیئر: