Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: سرکاری ادویات کی چوری اور فروخت کا الزام، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گرفتار

پولیس کے مطابق گاڑی کی تلاشی کے دوران 30 کانٹن میں مختلف ادویات برآمد ہوئیں (فوٹو: پولیس)
بلوچستان کے ضلع واشک کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو پولیس نے سرکاری ادویات چوری کرکے عام مارکیٹ میں فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق ’خفیہ اطلاع ملی تھی کہ بیرونی اضلاع سے سرکاری ادویات کوئٹہ لائی جارہی ہیں تاکہ انہیں فروخت کیا جا سکے۔ اس اطلاع پر تھانہ نیو سریاب کے ایس ایچ او فتح شیر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کوئٹہ کے علاقے میاں غنڈی میں ناکہ لگایا اور گاڑیوں کی چیکنگ شروع کی۔‘
ایس ایس پی آپریشنز دوستین دشتی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چیکنگ کے دوران ایک ریو گاڑی کو روکا گیا جس میں موجود شخص نے اپنا تعارف ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر واشک ڈاکٹر محمد اکبر کے طور پر کرایا۔‘
بیان کے مطابق گاڑی کی تلاشی کے دوران 30 کانٹن میں مختلف ادویات برآمد ہوئیں جن پر سرکاری مہر اور ’ناٹ فار سیل‘ درج تھا۔
ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ دوستین دشتی نے بتایا کہ پولیس نے سرکاری ادویات کی ترسیل اور فروخت کی کوشش ناکام بنائی اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ نیو سریاب میں ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا۔
مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 379، 420، 274، 275 اور 276 کے ساتھ ساتھ ڈرگ ایکٹ 1976 کی دفعات 23 اور 27 شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ڈاکٹر محمد اکبر نے پولیس کو بتایا کہ یہ ادویات زائد المعیاد ہیں اور واشک میں استعمال نہیں ہوئیں اس لیے انہیں واپس کرکے متبادل ادویات لینے کے لیے کوئٹہ لایا گیا ہے۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم غیر قانونی طور پر یہ ادویات اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنا چاہتا تھا۔
واقعے کے بعد محکمہ صحت بلوچستان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اکبر کو معطل کر دیا۔
سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمان پانیزئی نے اُردو نیوز کو بتایا کہ گریڈ 19 کے مذکورہ افسر کو بلوچستان ایمپلائز ایفشینسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کے تحت معطل کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایڈیشنل سیکریٹری صحت کو انکوائری افسر مقرر کرکے ایک ہفتے کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ 

 

شیئر: