روسی صدر ولادیمیر پوتن کا ایران میں تصادم فوری طور پر روکنے کا مطالبہ
پوتن نے یہ بھی کہا کہ وہ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے صدر سے ’اسرائیلی۔امریکی مسلح جارحیت‘ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں پر اظہارِ تعزیت کیا ہے اور جنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی خبت رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعے کی رات ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ایک ٹیلیفونک گفتگو میں پوتن نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، خامنہ ای کے خاندان کے افراد، ایرانی سیاسی و عسکری رہنماؤں اور ’بے شمار شہریوں‘ کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
کریملن کے مطابق ’ولادیمیر پوتن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس اصولی طور پر ایران یا مشرقِ وسطیٰ سے متعلق کسی بھی مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے نکالنے کے خلاف ہے، جنگ بندی فوری طور پر ہونی چاہیے اور جلد از جلد سفارتی راستے کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔‘
پوتن نے یہ بھی کہا کہ وہ خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
کریملن نے بتایا کہ ’ایرانی صدر نے ایران کی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے موقع پر روس کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس تنازع کے تازہ ترین اور شدید مرحلے کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔‘
