بارآوری اور پھولوں کے کیڑوں کے خاتمے میں ’مکھیوں کا اہم کردار‘
مکھیوں کے انتہائی چھوٹے کِرم، نقصان دہ حشرات کو کھا جاتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
آج کل حدودِ شمالیہ کے کئی قدرتی اور شہری مقامات پر پھولوں کی مکھیاں بہت کثرت سے دیکھی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اس علاقے میں بہتر ماحولیاتی توازن اور نباتات اور حیوانات کے ایک مقام پر کثرت سے یکجا ہونے پر وجود میں آنے والے بہتر متوازن ماحول کی ایک مثبت علامت ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پھولوں کی اِن مکھیوں کا تعلق ’سرفیڈائی‘ فیملی سے ہے جنھیں ’ہوور فلائیز‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ اپنے پر بہت تیزی سے پھڑپھڑاتی ہیں۔
یہ مکھیاں پودوں میں پولینیش کے عمل اور پھولوں کے کیڑے ختم کرنے میں بھی بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اِن مکھیوں کے انتہائی چھوٹے کِرم، نقصان دہ حشرات جیسے افڈز کو کھا جاتے ہیں۔ اس سے فصلوں اور قدرتی طور پر جابجا اُگے ہوئے سبزے کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کو پودوں پر کیڑے مار ادویات بہت ہی کم مقدار میں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔
حدودِ شمالیہ کے مختلف علاقوں میں ان مکھیوں کی کثرت اس بات کا اشارہ ہے کہ وہاں کے سبزہ زاروں اور پھول پیدا کرنے والے پودوں کے لیے ماحول انتہائی سازگار ہے جس کی وجہ سے مقامی شہروں اور زرعی علاقوں میں مجموعی ماحولیاتی پائیداری بھی بڑھ جاتی ہے۔
شہد کی مکھیوں کے بعد پولینیشن کے عمل کو بڑھانے میں ’ہوور فلائیز‘ کا درجہ سب سے بلند ہے۔ یہ مکھیاں پھولوں کا رس چوسنے اور پولن کی تلاش میں ہر اُس جگہ جاتی ہیں جہاں پھول کثرت سے کِھلے ہوئے ہوں۔

یہ ایک اہم سرگرمی ہے جس سے پولینیشن کے عمل میں سہولت حاصل ہوتی ہے اور مختلف زرعی اور جنگلی پودوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔