’میرا ردِعمل درست نہیں تھا‘، انفلوئینسر عدنان ظفر عرف کین ڈول کی معذرت
جمعہ 23 جنوری 2026 9:59
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
پاکستان کے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر عدنان ظفر جو سوشل میڈیا پر کین ڈول کے نام سے مشہور ہیں، نے حالیہ تنازع کے بعد عوام سے باقاعدہ معافی مانگ لی ہے۔
جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں عدنان ظفر نے کہا کہ زندگی میں انہوں نے ایک اہم بات سیکھی ہے کہ ہر معاملے کے دو پہلو ہوتے ہیں، مثبت بھی اور منفی بھی۔ ان کے مطابق ہر رائے اور ہر تنقید کے بھی دو رخ ہوتے ہیں، جن پر ردِعمل یا تو مثبت انداز میں دیا جا سکتا ہے یا منفی انداز میں۔
عدنان ظفر کا کہنا تھا کہ ان پر ہونے والی تنقید پر ان کا ردِعمل درست نہیں تھا، اور اسی ردِعمل کی وجہ سے لوگوں کی دل آزاری ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے متعدد پیغامات موصول ہوئے اور جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہوا، اس لیے مجھے کوئی بات چھپانے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ سب کے سامنے آ کر یہ بات واضح کریں کہ اگر ان کے الفاظ یا رویے سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر دل سے معذرت خواہ ہیں۔ ان کے مطابق وہ اسی طرح معافی مانگنے آئے ہیں جس طرح کوئی خاندان کا فرد، دوست یا چھوٹا بھائی معافی مانگتا ہے۔
عدنان ظفر نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی آن لائن فیملی لاکھوں فالوورز پر مشتمل ہے اور انہیں ان تمام افراد سے معافی مانگنی چاہیے جن کی دل آزاری ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جو لوگ ان کے بیانات سے متفق نہیں تھے، انہیں ان کی رائے کا احترام کرنا چاہیے تھا۔ ویڈیو کے اختتام پر انہوں نے اپنے فالوورز کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اب تک ان کے ساتھ کھڑے رہے۔
یہ بیان ایک ایسے تنازع کے بعد سامنے آیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر خاصا ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب کین ڈول نے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے فیشن سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی۔
اگرچہ کچھ صارفین نے اس پوسٹ کو سراہا، تاہم بڑی تعداد میں لوگوں نے اس پوسٹ کے وقت کو نامناسب قرار دیا، سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ یہ ایسا بیان دینے کا ٹھیک وقت نہیں تھا کیونکہ اس دوران ملک ایک افسوسناک واقعے کے بعد سوگ کی کیفیت میں تھا۔ اس بنیاد پر کین ڈول پر عدم حساسیت اور حالات سے لاتعلقی کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب عدنان ظفر نے اپنی کامیابی، بڑے فالوور بیس اور مہنگے برانڈ معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے دیگر سوشل میڈیا کریئیٹرز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے بیانات کو تکبر اور دوسرے کریئیٹرز کی تضحیک کے طور پر دیکھا گیا، جس پر ڈیجیٹل کمیونٹی میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔
بعد ازاں بعض ویڈیوز میں دیگر انفلوئنسرز کی ظاہری شکل سے متعلق تبصروں پر بھی انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان بیانات کو دوہرے معیار سے تعبیر کیا اور معاملہ مزید بگڑتا چلا گیا۔ اس دوران کین ڈول نے متعدد ویڈیوز کے ذریعے اپنے مؤقف کا دفاع کیا اور ناقدین کو جواب دیتے رہے، جس سے تنازع ختم ہونے کے بجائے مزید پھیلتا گیا۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب کئی معروف ڈیجیٹل کریئیٹرز سامنے آئے اور کھل کر کین ڈول کے رویے پر تنقید کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ وضاحتوں اور جوابی بیانات کے بجائے ذمہ داری قبول کرنا زیادہ مناسب ہوتا۔ اس پورے عرصے میں سوشل میڈیا پر شدید بحث، تنقید اور باہمی الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔
بالآخر، طویل تنقید اور بڑھتے دباؤ کے بعد عدنان ظفر کی جانب سے معافی کا یہ بیان سامنے آیا ہے، جسے بعض صارفین مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔
