Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پی ٹی آئی کا شہزاد اکبر پر لندن میں حملے کا دعویٰ، ’چہرے پر مُکے مارے گئے‘

پاکستان نے برطانیہ سے باضابطہ طور پر پاکستانی شہری مرزا شہزاد اکبر کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے (فوٹو: ایکس)
پاکستان تحریک انصاف نے دعوی کیا ہے کہ ان کے رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب رہنے والے مرزا شہزاد اکبر پر برطانیہ میں نامعلوم شخص نے حملہ کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہنا ہے شہزاد اکبر پر نامعلوم شخص نے لندن میں ان کے گھر پر حملہ کیا جس میں وہ زخمی ہوئے ہیں۔
ڈان ڈاٹ کام کے مطابق 2022 سے برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے مرزا شہزاد اکبر نے ان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پر حملہ کیا گیا ہے۔
مرزا شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’مجھ پر حملہ ہوا ہے، میں ہسپتال میں رہا ہوں اور پولیس کے ساتھ بھی رہا ہوں، جسم پر چوٹیں آئی ہیں اور فریکچر بھی ہوا ہے۔‘
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایکس اکاؤنٹ پر بدھ کی شب  پوسٹ کے مطابق ’مرزا شہزاد اکبر پر یہ حملہ کیمرج میں ان کے گھر پر صبح کے وقت کیا گیا۔‘
پی ٹی آئی کا ایکس پوسٹ میں کہنا تھا کہ ’حملہ آور نے مرزا شہزاد اکبر کے چہرے پر بار بار مکے مارے، جس کے نتیجے میں ان کی ناک اور جبڑا فریکچر ہوگیا۔‘
پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مقامی پولیس نے تمام تفصیلات جمع کرلی ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔‘
اس سے قبل نومبر 2023 میں مرزا شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ برطانیہ کے علاقے ہارٹفورڈ شائر میں ان کے گھر پر ان پر تیزاب سے حملہ کیا گیا۔
اُس وقت مبینہ طور پر ایک نقاب پوش حملہ آور نے ان پر تیزاب پھینکا تھا جس کا ذکر مرزا شہزاد اکبر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کیا تھا اور کہا تھا کہ ’میں ڈرنے والا نہیں ہوں اور نہ ہی ان لوگوں کے آگے جھکوں گا جو یہ سب کر رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں پاکستان نے برطانیہ سے باضابطہ طور پر دو پاکستانی شہریوں عادل راجہ اور مرزا شہزاد اکبر کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔
اس وقت وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دونوں افراد کی حوالگی سے متعلق دستاویزات پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے حوالے کیں۔
وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ برطانوی ہائی کمشنر کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پروپیگنڈا کرنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم کیے۔

شیئر: