Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قاتل حسینہ کو تقریر کرنے دینا بنگلہ دیش کی توہین ہے: وزارت خارجہ

بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر ’حیران‘ اور ’سخت مایوس‘ ہے کہ انڈیا نے مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں عوامی خطاب کرنے کی اجازت دی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حسینہ واجد اگست 2024 میں پڑوسی ملک انڈیا فرار ہوگئی تھیں، جب طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے ان کی 15 سالہ سخت گیر حکومت کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے جمعے کو دہلی کے ایک پریس کلب میں آڈیو خطاب کے ذریعے پہلی بار عوامی سطح پر گفتگو کی۔
نومبر میں ڈھاکہ کی ایک عدالت نے انہیں غیر حاضری میں قتل کے حکم، قتل پر اکسانے اور مظالم روکنے میں ناکامی کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔
بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام حیران اور ششدر ہیں۔ انڈین دارالحکومت میں اس تقریب کی اجازت دینا اور قاتل حسینہ کو کھلے عام نفرت انگیز تقریر کرنے دینا بنگلہ دیش کے عوام اور حکومت کی توہین ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ حسینہ کو تقریر کی اجازت دینا ’خطرناک نظیر‘ قائم کرتا ہے جو ’دو طرفہ تعلقات کو سنگین نقصان‘ پہنچا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کے ووٹرز 12 فروری کو نئے رہنماؤں کے انتخاب کے لیے پولنگ میں حصہ لیں گے، جو حسینہ کی آمرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد کی بدامنی کے دور کے بعد ہونے جا رہا ہے۔
اپنے آڈیو خطاب میں حسینہ نے کہا کہ ’نگراں رہنما محمد یونس کے تحت بنگلہ دیش میں کبھی آزاد اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوں گے۔‘
بنگلہ دیش نے انڈیا سے حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم نئی دہلی نے اس پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
حسینہ کی معزولی کے بعد انڈیا کی حمایت نے دونوں جنوبی ایشیائی ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

 

شیئر: