Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طلبہ کے خلاف کریک ڈاؤن، شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم

بنگلہ دیش کی عدالت نے طلبہ کے احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دینے پر معزول وزیراعطم شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کئی ماہ کی سماعت کے بعد پیر کو سنائے گئے فیصلے میں ان کو ’انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب‘ اور پچھلے برس طلبہ کے احتجاج پر ’مہلک کریک ڈاؤن کا حکم جاری کرنے کا ذمہ دار‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔
شیخ حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا چکا ہے اور اس فیصلے کے بعد ملک میں مزید بدامنی پھیلنے کے خدشات ہیں۔
ڈھاکہ میں موجود انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کی عدالت نے فیصلہ انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات میں سنایا۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔
تاہم دوسری جانب حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلے کے خلاف تب تک اپیل نہیں کریں گے جب تک منتخب حکومت جمہوری طور اس پراسس سے گزر کر اقتدار نہیں سنبھال لیتی جس کا حصہ عوامی لیگ بھی ہو۔
ایک روز قبل ہی سجیب واجد نے خبردار کیا تھا کہ اگر عوامی لیگ پر سے پابندی نہ ہٹائی گئی تو عوامی لیگ کے حامی فروری میں الیکشن نہیں ہونے دیں گے اور احتجاج تشدد کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب حسینہ واجد نے ایک بار پھر الزامات کو سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے ماننے سے انکار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ پچھلے برس 15 جولائی سے پانچ اگست کے درمیان حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں 1400افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے اور ان میں سے زیادہ تر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔
ان واقعات کو بنگلہ کی 1971 کی آزادی کی جنگ کے بعد اب تک کے بدترین سیاسی تشدد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
17 کروڑ سے زیادہ کی آبادی رکھنے والا بنگلہ دیش دنیا کے سب سے بڑے گارمنٹس کے ایکسپورٹرز میں سے ایک ہے جو بڑے عالمی برانڈز کو سامان سپلائی کرتا ہے۔ پچھلے برس ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے اس صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔
حسینہ واجد اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار ہو کر انڈیا چلی گئی تھیں اور اب دہلی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
سجیب واجد نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’وہ میری والدہ کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں، وہ انڈیا میں ہیں جہاں ان کو بھرپور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔‘

اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

نوبیل انعام یافتہ محمد یونس میں کام کرنے والے عبوری حکومت کے ایک ترجمان نے ’مقدمے کے سیاسی محرکات‘ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے شفاف طور پر کام کیا اور مبصرین کو اس کی دستاویز شائع کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
حسینہ واجد نے اکتوبر میں روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سکیورٹی میں رہتے ہوئے دہلی میں آزادنہ طور پر نقل و حرکت سکتی ہیں۔
ان کے والدین اور تین بھائی 1975 میں ہونے والی فوجی بغاوت کے دوران مارے گئے تھے اور اس وقت (حسینہ واجد) اور ان کی بہن ملک سے باہر تھیں۔
سجیب واجد کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک اپیل نہیں کریں گے جب تک منتخب حکومت جمہوری طور پر عوامی لیگ کی شمولیت سے حکومت نہیں سنبھال لیتی۔
اس پارٹی کی رجسٹریشن مئی میں اس وقت معطل کر دی گئی تھی جب عبوری حکومت نے قومی سلامتی کو لاحق خطرات اور سینیئر قیادت پر جنگی جرائم کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اتوار کو کئی دیسی ساختہ بم دھماکے ہوئے (فوٹو: اے پی)

سجیب واجد کے مطابق ’ہم عوامی لیگ کے بغیر الیکشن نہیں ہونے دیں گے، ہمارا احتجاج مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے، جب تک عالمی برادری کچھ نہیں کرتی ہمیں جو بھی کرنا پڑے ہم کریں گے۔ انتخاب سے قبل تشدد اور تصادم ہو سکتا ہے۔‘
دوسری جانب حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ پر سے پابندی ہٹائے جانے کا کوئی منصوبہ زیرغور نہیں ہے۔
ترجمان کے مطابق ’عبوری حکومت کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی، خصوصاً جلاوطن قیادت کی جانب سے کیے گئے اقدام کو انتہائی غیرذمہ دارانہ اور قابل مذمت سمجھتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فی الوقت عوامی لیگ کے لیے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے دور میں انسانیت کے خلاف کیے گئے جرائم پر پشیمانی اور احتسابی عمل سے انکار کر رہی ہے جن میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کے تحت مقدمہ بھی شامل ہے۔‘
خیال رہے آج سنائے گئے فیصلے سے قبل ہی بنگلہ دیش میں صورت حال میں تناؤ بڑھتا ہوا دیکھا گیا اور اتوار کو ڈھاکہ میں کئی دیسی ساختہ بم دھماکے بھی ہوئے تھے۔

 

شیئر: