Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شاندار فتح، مگر چند سوال باقی ہیں: عامر خاکوانی کا تجزیہ

پاکستان نے سری لنکا کو سہ ملکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں ہرا کر سیریز جیت لی۔ فائنل یک طرفہ ثابت ہوا۔ فائنل پنڈی کی جس پچ پر ہوا، اس نے خلاف توقع خاصا ٹرن لیا اور پاکستانی سپنرز نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
سری لنکن بیٹنگ بری طرح کولیپس ہوئی۔ پہلے 10 اوورز میں 81 رنز پر ایک آؤٹ تھا اور پھر پوری ٹیم 114 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
صائم ایوب نے چار اوورز میں صرف 17 رنز دے کر ایک آوٹ کیا، نواز نے چار اوورز میں 17 رنز دے کر تین آوٹ کیے، اور ابرار نے چار اوورز میں 18 رنز دے کر دو آوٹ کیے۔ یعنی ان تین سپنرز نے 12 اوورز میں بمشکل 52 رنز دیے۔ شاہین شاہ نے بھی تین آوٹ کیے۔
یوں 114 رنز کے ہدف کو پاکستانی بیٹنگ نے بغیر لڑکھڑائے، بغیر ڈگمگائے آسانی سے حاصل کر لیا۔ اوپنرز بہتر کھیلے، بابر اعظم نے 37 رنز ناٹ آوٹ کی اننگز کھیلی اور یوں دو اوورز قبل ہی ٹارگٹ حاصل ہو گیا۔
پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں پانچ میچز کھیلے، زمبابوے کو دونوں میچز ہرا دیے، سری لنکا کو ایک لیگ میچ ہرایا، ایک میں شکست ہوئی اور پھر فائنل آرام سے جیت لیا۔
جیت ہمیشہ خوشگوار ہوتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ اچھی خبر ہی ہے۔ تاہم اس جیت کے باوجود بعض سوالات ابھی تک باقی ہیں۔ ٹیم کمبینیشن پر بھی تنقید کی گنجائش موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب ورلڈ کپ میں زیادہ وقت باقی نہیں رہا اور مزید تجربات کی گنجائش بھی باقی نہیں۔

ورلڈ کپ کے لیے ممکنہ ٹیم کیا ہو گی؟

اس سیریز میں ٹیم کمبینیشن بڑی حد تک واضح ہوگیا ہے۔ بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ پاکستان اگلے چند ٹی20 میچز اور فروری میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میں اس ترتیب اور کمبینیشن کے ساتھ کھیلے گا۔
اوپنرز: صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب۔
مڈل آرڈر: بابر اعظم، فخر زمان، سلمان آغا اور عثمان خان (وکٹ کیپر)۔
لوئر آرڈر/آل راؤنڈرز: محمد نواز، فہیم اشرف۔
سپیشلسٹ فاسٹ بولرز: ترجیحاً دو۔ شاہین شاہ آفریدی، سلمان مرزا /وسیم جونیئر/نسیم شاہ۔
سپیشلسٹ سپنر: محمد ابرار/عثمان طارق۔ شائد سفیان مقیم بھی۔

بابر اعظم نے 37 رنز ناٹ آوٹ کی اننگز کھیلی اور یوں دو اوورز قبل ہی ٹارگٹ حاصل ہو گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ٹیم کے لیے مسائل کیا ہیں؟

پاکستانی ٹیم تین بڑے اور بنیادی نوعیت کے مسائل کا شکار ہے۔ پہلا تو یہ ہے کہ ٹیم میں چار پانچ اوپنرز ہیں یا وہ بلے باز جو اوپننگ کرنا پسند کرتے ہیں اور ڈومیسٹک یا پی ایس ایل میں اوپننگ کرتے رہے ہیں۔ صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب کے علاوہ فخر زمان، عثمان خان، بابر اعظم بھی اوپننگ کرنا پسند کرتے ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ نے اوپنرز کے لیے صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب کو پسند کر لیا ہے، مسلسل انہیں ہی مواقع دیے جا رہے ہیں۔ چلیں ایک لحاظ سے ٹھیک ہے کہ فیصلہ کر لیا گیا۔
بابر اعظم ون ڈاؤن کھیلتا ہے، یوں نمبر چار، پانچ اور چھ پر فخر زمان، سلمان آغا اور عثمان خان کھیلتے ہیں۔ یہ ہمارا مڈل آرڈر ہے۔ پرابلم یہ ہے کہ بابر کی حد تک تو ٹھیک ہے کہ وہ ون ڈاؤن کھیلے گا، مگر نمبر پانچ اور چھ پر اگر سلمان آغا اور عثمان کھیلیں تو دونوں ہی پاور ہٹرز نہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی 160، 170 کے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ نہیں کر سکتا۔ ٹی20 میں ان پوزیشنز پر ہر ٹیم پاور ہٹرز کھلاتی ہے جو لمبے چھکے لگا سکیں اور 10، 15 گیندوں پر 30، 35 رنز بنانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔
ہمارے ہاں سلمان آغا بمشکل 120 یا 130 کے سٹرائیک سے بیٹنگ کر سکتا ہے، یہی معاملہ عثمان خان کا ہے، خاص کر جب اسے نمبر چھ پر کھلایا جا رہا ہو۔ یہ ایک بڑی خامی ہے اور اچھی ٹیم کے خلاف بڑا مسئلہ بن سکتا ہے جب بڑے ہدف کے تعاقب میں ہارڈ ہٹنگ کی ضرورت پڑے تب یہ کمزوری بری طرح ایکسپوز ہو سکتی ہے۔ ٹورنامنٹ میں سری لنکا کے خلاف دوسرے میچ میں یہی ہوا کہ پاکستان اچھا بھلا جیتا ہوا میچ ہار گیا۔ آخری چھ گیندوں پر 10 رنز بھی نہیں بنا پایا، حالانکہ تب سلمان آغا اچھی طرح سیٹ ہو کر 50 رنز بنا کر وکٹ پر موجود تھا۔

نمبر پانچ اور چھ پر اگر سلمان آغا اور عثمان کھیلیں تو دونوں ہی پاور ہٹرز نہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ہمارے پاس پاور ہٹرز موجود ہیں۔ جیسے عبدالصمد یا حسن نواز وغیرہ۔ انہیں مگر کھلا نہیں سکتے کیونکہ ٹیم کمبینیشن اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے کہ عثمان خان وکٹ کیپر ہے، اسے باہر کیسے بٹھائیں؟ سلمان آغا کپتان ہے اس نے تو کھیلنا ہی ہے۔ فخر زمان یا بابر اعظم کو بھی باہر بٹھانا آسان نہیں۔ اس لیے کہ بہرحال یہ دونوں بڑے بلے باز ہیں اور بڑے میچز میں امپیکٹ ڈال سکتے ہیں۔ بابر تو ٹیم کا سب سے بہتر تکنیک والا بیٹر ہے۔ اگر وہ فارم میں ہو تو بطور اینکر بھی ٹیم کے لیے اثاثہ ہے۔
ٹیم مینجمنٹ شائد اس مسئلے کا حل نہیں نکال پائی۔ محمد حارث کو بطور وکٹ کیپر کھلایا کہ وہ اچھا پاور ہٹر ہے، مگر حارث نے جس طرح سینس لیس بیٹنگ کر کے اپنی وکٹ متعدد بار گنوائی، اس سے اسے باہر کرنا پڑا۔ ایک آپشن یہ ہے کہ صاحبزادہ فرحان جو پارٹ ٹائم وکٹ کیپر ہے، اس سے وکٹ کیپنگ کرائی جائے اور نمبر چھ پر پاور ہٹر عبدالصمد کو کھلایا جائے۔ یہ بھی آسان نہیں کیونکہ ورلڈ کپ میں پارٹ ٹائم وکٹ کیپر سے کھیلنا بھی کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہو گا۔

کپتانی کا مسئلہ

سلمان علی آغا برا کپتان نہیں، مگر سردست ٹی20 ٹیم میں اس کی قطعی جگہ نہیں بنتی۔ وہ اگر کپتان نہ ہو تو شرطیہ طور پر ٹیم سے باہر ہو گا۔ یہ ایک بہت بری آپشن ہے کہ کپتان اسے بنایا جائے جس کی ٹیم میں جگہ ہی نہ بنتی ہو۔ افسوس کہ یہ فیصلہ کئی ماہ پہلے ہوا اور اسے بروقت تبدیل نہیں کیا گیا۔ ایک آسان آپشن تھی کہ شاہین شاہ آفریدی کو ون ڈے کے بجائے ٹی20 میں کپتان بنایا جاتا اور سلمان آغا کو ون ڈے ٹیم کا کپتان بنا دیتے۔ یوں مڈل آرڈر میں ایک اچھا پاور ہٹر کھلانے کا آپشن پیدا ہو جاتا۔ ایسا مگر نہیں ہو پایا اور بظاہر ورلڈ کپ میں ٹیم کپتان سلمان آغا کے بوجھ کے ساتھ ہی جائے گی۔

سلمان علی آغا برا کپتان نہیں، مگر سردست ٹی20 ٹیم میں اس کی قطعی جگہ نہیں بنتی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایک سپیشلسٹ بولر کم ہونا

ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنی فل بولنگ سٹرینتھ سے نہیں کھیل رہا۔ پاکستان کو دیگر اچھی ٹیموں کی طرح پانچ نہیں تو کم از کم چار سپیشلسٹ باولرز سے کھیلنا چاہیے۔ پاکستان تین سپیشلسٹ باولرز سے کھیل رہا ہے۔ جیسے آج شاہین شاہ آفریدی، سلمان مرزا اور ابرار کو کھلایا گیا۔ چوتھے اور پانچویں باولرز کے لیے محمد نواز، فہیم اشرف اور صائم ایوب پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔
نواز ایک اچھا آل راؤنڈر ثابت ہو رہا ہے اور اس نے کچھ عرصے میں اچھی بیٹنگ کے ساتھ اچھی بولنگ بھی کرائی ہے، مگر محمد نواز کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ روایتی انداز کا لیفٹ آرم سپنر ہے اور کسی بھی میچ میں اگر کوئی جارحانہ کھبا بلے باز اس پر حملہ آور ہو تو وہ اکثر پٹ جاتا ہے۔ محمد نواز، ابرار کی طرح قابل اعتماد سپنر نہیں۔ وہ کئی میچز میں وکٹیں بھی لے چکا ہے، مگر اہم اور بڑے میچز میں کئی بار بری طرح ناکام ہو جاتا ہے۔
یہی معاملہ صائم ایوب کا ہے۔ اپنے اچھے دن صائم ایوب کوٹے کے پورے اوورز کرا کر وکٹیں بھی لے گا، مگر کئی بار صرف ایک دو اوورز ہی کرا پاتا ہے اور اس میں بھی چھکے لگ جاتے ہیں۔ صائم ایوب دراصل ابھی تک پارٹ ٹائم سپنر ہی ہے۔ فہیم اشرف کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ وہ سلو کٹرز کراتا ہے اور کسی ایسی پچ پر جہاں ڈبل باؤنس ہو، وہاں فہیم کامیاب ہوتا ہے، مگر کسی بھی بیٹنگ پچ پر اپنی کم رفتار کے باعث غیرموثر ثابت ہوتا ہے۔
یوں یہ تینوں پارٹ ٹائم بولرز پاکستانی باولنگ کی کمزور کڑی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستان کم از کم ایک اور سپیشلسٹ باولر کھلائے۔ مسٹری سپنر عثمان طارق اچھی آپشن ہے، اس لیے بھی کہ ورلڈ کپ میں بیشتر ٹیمیں اسے پہلے بار کھیلیں گی اور اس کا ایکشن ایسا ہے کہ فوری سمجھ نہیں آتا۔ ایک ایکسٹرا فاسٹ بولر جیسے وسیم جونیئر یا نسیم شاہ بھی کھیل سکتا ہے۔

مسٹری سپنر عثمان طارق اچھی آپشن ہے اور اس کا ایکشن ایسا ہے کہ فوری سمجھ نہیں آتا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایسا اس لیے نہیں کیا جا رہا کہ پاکستانی مڈل آرڈر بیٹنگ ناقابل اعتماد ہے، بابر اعظم اپنی پوری فارم میں نہیں اور کئی بار بہت جلد آوٹ ہو جاتا ہے۔ یہی دوسروں کا معاملہ ہے، یوں نواز اور فہیم اشرف کو مجبوراً بھی کھلانا پڑتا ہے کہ بیٹنگ میں کچھ ایکسٹرا سپورٹ ہوجائے۔ اس سے مگر بولنگ اپنی پوری قوت سے نہیں کھیل پاتی۔ یہ سری لنکا، زمبابوے جیسی چھوٹی ٹیموں کے خلاف تو چل جائے گا، مگر انڈیا، انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کےخلاف خطرناک ہو سکتا ہے۔

کیا نئے کھلاڑیوں کو آزمایا جائے؟

ایک سوال اب یہ بھی پیدا ہوا ہے کہ ایمرجنگ ایشیا کپ میں جن چند پاکستانی کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی ہے، انہیں ٹی20 ورلڈ کپ میں موقعہ دیا جائے یا نہیں؟
معاز صداقت نے عمدہ بیٹنگ کی، میچ وننگ اننگز کھیلیں، وہ پارٹ ٹائم سپنر بھی ہے، وائٹ بال کرکٹ میں اس کا مستقبل روشن لگ رہا ہے۔ اسی طرح خواجہ نافع بھی اچھا ہٹر ہے، وکٹ کیپر بھی ہے۔ احمد دانیال نے اچھی بولنگ کرائی، فائنل میں بھی میچ جتوایا۔ سفیان مقیم اچھا مسٹری سپنر ہے، پاکستانی ٹیم کی طرف سے کھیل چکا ہے، اسے ویسے ایک آدھ میچ کی بری کارکردگی پر ڈراپ کیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ ان کھلاڑیوں کو کس جگہ پر کھلایا جائے؟ اور کیا مناسب تجربے کے بغیر ان نوجوان کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کے پریشر میچز میں جھونکنا عقل مندی ہو گی؟ معاز صداقت اوپنر ہے، پاکستان کے لیے پہلے ہی اوپننگ کے لیے کئی آپشنز موجود ہیں۔ معاذ کو اگر کھلائیں تو کسے باہر بٹھائیں؟ صائم ایوب یا فرحان کو باہر بٹھانا زیادتی ہو گی، ان کی کارکردگی بری نہیں رہی ہے۔ احمد دانیال اچھا بولر ہے، مگر شاہین شاہ، سلمان مرزا، نسیم شاہ، وسیم جونیئر سے یہ بہتر بولر نہیں۔ خواجہ نافع کو بھی ورلڈ کپ سے پہلے کئی میچز کھیل لینے چاہیے تھے۔

خواجہ نافع کو بھی ورلڈ کپ سے پہلے کئی میچز کھیل لینے چاہیے تھے۔ (فائل فوٹو: خواجہ نافع فیس بک)

پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، مگر دانش مندی یہی ہے کہ ان نوجوان کھلاڑیوں کو ابھی کچھ مزید گروم کیا جائے، انہیں ڈومیسٹک سیزن کھلایا جائے، پی ایس ایل کھیلیں اور پھر انہیں بتدریج نیشنل ٹیم میں لے آئیں۔ سفیان مقیم کو البتہ لایا جا سکتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی پراسیس مکمل کر کے نیشنل ٹیم کی جانب سے کھیل چکا تھا۔
اللہ خیر کرے۔ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں ہے۔ بس ایک ہی اچھی بات ہے کہ پاکستان کے میچز سری لنکا میں ہوں گے تو وہاں انڈین پچز کی نسبت کچھ بہتر معاملات ہو سکتے ہیں۔ دعا کرنی چاہیے کہ نواز، صائم ایوب، فہیم اشرف کلک کر جائیں، اوپنرز اچھا پرفارم کریں، بابر فارم میں رہے اور سپیشلسٹ بولرز بھی پوری بولنگ کا بوجھ اٹھا لیں۔ پاکستانی ٹیم کو خاصی دعاؤں اور بیسٹ وشز کی ضرورت ہے۔

 

شیئر: