Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہنٹا وائرس انسانوں سے انسانوں میں کیسے پھیلتا ہے؟ ارجنٹائن کے سائنس دانوں کی نئی تحقیق

یہ وائرس کووڈ-19 یا فلو کے مقابلے میں بہت کم تیزی سے پھیلتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ارجنٹائن کے ساحل کے قریب ایک بحری جہاز 'ایم وی ہونڈیئس' پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ اور تین ہلاکتوں نے دنیا بھر کے ماہرینِ صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اگرچہ یہ وائرس عام طور پر چوہوں سے پھیلتا ہے لیکن حالیہ واقعے نے انسان سے انسان میں اس کی منتقلی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف کی ایک رپورٹ میں ارجنٹائن کے سائنس دانوں کی نئی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ہنٹا وائرس کی ’اینڈیزسٹریم‘ عام طور پر پتاگونیا کے علاقے میں پائے جانے والے لمبی دم کے چوہوں کے فضلے، پیشاب اور تھوک سے پھیلتی ہے۔
ارجنٹائن کے سائنسی تحقیقی ادارے ’کونیسیٹ‘ کے ماہرِ حیاتیات راؤل گونزالیز اتگ کے مطابق حالیہ دنوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ ’ایل نینو‘ (El Nino) موسمیاتی رجحان ہو سکتا ہے۔
ایل نینو کی شدید بارشوں کے باعث نباتات میں اضافہ ہوا جس نے چوہوں کی آبادی بڑھانے میں مدد دی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ چوہوں کی بڑی تعداد خود بخود وباء کا سبب نہیں بنتی، بلکہ یہ انسانوں کے ساتھ ان کے رابطے کے مواقع بڑھا دیتی ہے۔
کیا وائرس میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟
ایپیڈیمیولوجسٹ روڈریگو بسٹامانٹے کا کہنا ہے کہ انسان سے انسان میں ہنٹا وائرس کی منتقلی ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے۔
اس کے لیے کسی متاثرہ شخص کے ساتھ 30 منٹ تک ایک میٹر سے کم فاصلے پر رہنا ضروری ہے۔
یہ وائرس کووڈ-19 یا فلو کے مقابلے میں بہت کم تیزی سے پھیلتا ہے۔

ایل نینو کی شدید بارشوں کے باعث نباتات میں اضافہ ہوا جس نے چوہوں کی آبادی بڑھانے میں مدد دی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سائنس دانوں نے اس مفروضے کو مسترد کر دیا ہے کہ وائرس میں کسی حالیہ جینیاتی تبدیلی (میوٹیشن) کی وجہ سے یہ انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے۔
متعدی امراض کی ماہر ماریہ ایسٹر لازارو کے مطابق ’ہر ہنٹا وائرس قدیم زمانے سے اپنے میزبان چوہے کے ساتھ تیار ہوا ہے اور اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔‘
ہنٹا وائرس کے کیسز بہت کم ہونے کی وجہ سے اس پر تحقیق کرنا مشکل ہے۔
ارجنٹائن میں اس سیزن کے دوران اب تک 102 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جو گزشتہ سال کے 57 کیسز کے مقابلے میں قریباً دوگنا ہیں۔
ڈاکٹر لازارو کے مطابق یہ بیماری شروع میں عام لگتی ہے لیکن چوتھے دن تک مریض کی حالت گھنٹوں میں بگڑ جاتی ہے جس کے باعث طبی جانچ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
 اگلے ہفتے ملبران انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دان اوشوایا کا دورہ کریں گے تاکہ وائرس کی موجودگی کے اسباب کا پتہ لگایا جا سکے۔

شیئر: