یہ سنہ 2007 کی بات ہے جب فرح خان کی فلم ’اوم شانتی اوم‘ ریلیز ہوئی تھی اور یہ فلم تمام تر تنازعات کے باوجود اس برس کی سب سے مقبول اور کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ فلم پر اداکار منوج کمار کا مذاق اڑانے سے لے کر بمل رائے کی دلیپ کمار اور ویجنتی مالا کی اداکاری والی فلم ’مدھومتی‘ کی نقل کا الزام لگا۔ فلم اگرچہ پوری طرح فلمی تھی لیکن اس میں ایک چیز بالکل نئی اور اصلی تھی جو کہ دیپکا پاڈوکون تھیں۔
اگرچہ اس فلم کو فلم فیئر ایوارڈز میں 13 کیٹگریز میں نمائندگی ملی تھی لیکن دیپکا کے لیے بہترین ڈیبیو کے ایوارڈ کے ساتھ سپیشل ایفیکٹس ایوارڈ کے علاوہ فلم کو کوئی تیسرا ایوارڈ نہ مل سکا۔
دیپکا پاڈوکون کی زندگی کسی دلکش داستان کی مانند ہے، جس کا آغاز نہ تو چمکتی ہوئی سکرین سے ہوا اور نہ ہی فلمی دنیا سے، بلکہ وہ ایک بالکل مختلف میدان سے آتی ہیں۔ ہم آج ان کے 40 ویں یوم پیدائش کے موقع پر انہیں یاد کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
’رنویر اور مجھے بچے بہت پسند ہیں‘، دیپکا پاڈوکونNode ID: 824786
-
شاہ رخ خان نہ دیپکا پاڈوکون، 2024 کا مشہور فلم سٹار کون؟Node ID: 882573
وہ 5 جنوری 1986 کو اپنے والد کے آبائی وطن سے دور ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں پیدا ہوئیں لیکن پھر جلد ہی ان کا خاندان انڈیا واپس آ گیا جہاں ان کی پرورش بنگلورو (سابقہ بنگلور) میں ہوئی۔ ان کی زندگی ایک سپورٹس مین کے نظم و ضبط، محنت اور اعلیٰ کارکردگی والی زندگی کا حصہ تھی۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے، کیونکہ ان کے والد پرکاش پاڈوکون انڈیا کے عظیم بیڈمنٹن کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1980 کی دہائی میں انڈیا کو بیڈمنٹن کے میدان میں عالمی شناخت عطا کی۔
دیپکا کی ساری تربیت بیڈمنٹن کے لیے ہو رہی تھی۔ چنانچہ وہ خود بھی نوعمری میں قومی سطح کی بیڈمنٹن کھلاڑی رہیں۔ سنہ 2012 کے ایک انٹرویو میں اپنے روزمرہ کے معمولات کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں صبح پانچ بجے اٹھتی، فزیکل تربیت کے لیے جاتی، سکول جاتی، دوبارہ بیڈمنٹن کھیلنے جاتی، اپنا ہوم ورک ختم کرتی، اور سو جاتی۔‘
لیکن قسمت نے ان کے لیے ایک اور سٹیج منتخب کر رکھا تھا۔ کھیل کے میدان میں جس توجہ، توازن اور چابک دستی کا مظاہرہ وہ کرتی تھیں، وہی خوبیاں بعد میں ان کی اداکاری میں بھی جھلکیں۔

ان کی فلمی زندگی کا آغاز عام تصور سے کچھ مختلف ہے۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ انہیں فلم ’اوم شانتی اوم‘ سے پہچانتے ہیں، جس میں انہوں نے شاہ رخ خان کے مقابل اداکاری کر کے راتوں رات شہرت حاصل کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی پہلی سکرین پر آمد ایک میوزک ویڈیو میں ہوئی تھی۔ ہیمش ریشمیا کے گانے ’نام ہے تیرا‘ میں ان کی معصوم اور پُرکشش موجودگی نے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ اس کے بعد ان کی پہلی فلم کنڑ زبان کی فلم ایشوریہ (2006) تھی، جو آج بھی کئی مداحوں کے لیے ایک دلچسپ انکشاف سے کم نہیں ہے لیکن اس سے بھی قبل وہ اشتہارات میں نظر آنے لگی تھیں اور ماڈلنگ کواپنے کیریئر کے طور پر منتخب کر لیا تھا۔
فلم ’اوم شانتی اوم‘ میں انہوں نے دوہرا یعنی ڈبل رول ادا کیا اور یہی فلم ان کے شاندار فلمی سفر کی بنیاد بنی۔ اس کامیابی کے بعد دیپکا نے خود کو ایک ہی قسم کے کرداروں تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے لَو سٹوریز کے ساتھ ساتھ تفریحی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ’لَو آج کل‘ یا ’کاک ٹیل‘ جیسی رومانوی فلمیں ہوں یا ’ہاؤس فل‘جیسی کمرشل فلم، دیپکا نے ہر انداز میں خود کو منوایا۔ انہیں فلم ’پیکو‘ کے لیے سراہا گیا۔
رومانوی کامیڈی میں انہیں کئی نامزدگیاں ملیں۔ ’کاک ٹیل‘ اور ’لو آج کل‘ میں سیف علی خان کے ساتھ یا فلم ’چنئی ایکسپریس‘ میں شاہ رخ کے ساتھ انہیں بہت پسند کیا گیا۔ دیپکا نے ہالی وڈ کا بھی رخ کیا لیکن پرینکا چوپڑہ کے برعکس وہ پھر بالی وڈ میں لوٹ آئیں۔

اس دوران وہ وین ڈیزل کے ساتھ ’ایکس ایکس ایکس: ریٹرن آف زینڈر کیج‘ میں نظر آئیں جس میں ان کی اداکاری کو بہت سراہا گيا۔
انہوں نے خطرہ مول لینے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ سنہ 2014 میں انہوں نے ’فائنڈنگ فینی‘ جیسی منفرد اور طنزیہ فلم میں کام کیا جو انگریزی زبان میں بنی اور روایتی بالی وُڈ فلموں سے ہٹ کر تھی۔ اس فلم نے ان کی اداکاری کی وسعت اور تجربات کے لیے ان کی آمادگی کو اجاگر کیا۔
ان کے کیریئر کا ایک نہایت سنجیدہ اور متاثر کن موڑ سنہ 2020 میں ریلیز ہونے والی فلم ’چھپاک‘ کے ساتھ آیا، جو تیزاب کے حملے کا شکار ہونے والی لڑکی کی زندگی سے متاثر تھی۔
اس فلم میں دیپکا نے نہ صرف مرکزی کردار ادا کیا بلکہ بطور پروڈیوسر بھی کام کیا۔ یہ قدم ان کی فنی جرات اور سماجی شعور کا مظہر تھا۔ اس دوران انہوں نے متعدد اعزازات حاصل کیے، جن میں فلم فیئر ایوارڈز بھی شامل ہیں اور یوں وہ تجارتی اور فنی دونوں حوالوں سے ایک مضبوط اداکارہ کے طور پر ابھریں۔
پردے سے باہر دیپکا کی شخصیت اور بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ انہوں نے ذہنی صحت کے موضوع پر کھل کر بات کی اور اسی مقصد کے لیے ’دی لِو لَو لاف فاؤنڈیشن‘ قائم کی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں ذہنی صحت پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا ان کا بولنا ایک جرات مندانہ قدم تھا، اور اسی لیے ان کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور انہیں ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے ذہنی صحت کے فروغ کے لیے کرسٹل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

دیپکا ایک کامیاب کاروباری ذہن بھی رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر ایک وینچر کیپیٹل ادارے کے ذریعے مختلف جدید شعبوں میں سرمایہ کاری کی۔ سنہ 2022 میں انہوں نے 82E کے نام سے سکن کیئر برانڈ لانچ کیا، جس کا نام انڈیا کے طول بلد کی علامت ہے، اور جو ان کی عالمی سوچ اور انڈین شناخت کا حسین امتزاج ہے۔
فیشن کی دنیا میں بھی دیپکا نے تاریخ رقم کی۔ وہ کارٹیئر اور لوئی ویٹون جیسی عالمی لگژری برانڈز کی پہلی انڈین سفیر بنیں۔ بعدازاں انہیں ایل وی ایم ایچ پرائز کی جیوری میں شامل کیا گیا، جو انڈین فیشن اور ثقافت کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ تھا۔
ان کی ذاتی زندگی بھی عوامی دلچسپی کا مرکز رہی ہے۔ فلموں میں آنے سے قبل وہ ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھ چکی تھیں۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس زمانے میں ان کے کئی ماڈل دوست رہے جن کے ساتھ ان کی قربتیں رہیں۔
انڈین کرکٹر یوراج سنگھ اور ایم ایس دھونی سے بھی ان کے تعلق کے چرچے رہے لیکن سب سے زیادہ ان کا نام اداکار رنبیر کپور کے ساتھ لیا گيا۔ اس دوران وہ معروف تاجر وجے مالیہ کے بیٹے سدھارتھ مالیہ کے ساتھ بھی نظر آئیں۔
ان لوگوں کے ساتھ کئی برسوں تک میڈیا کی نظروں میں رہنے کے بعد انہوں نے بالآخر اداکار رنویر سنگھ کے ساتھ سنہ 2018 میں شادی کر لی۔ یہ جوڑا جلد ہی بالی وُڈ کے محبوب ترین جوڑوں میں شمار ہونے لگا۔ ان کے تعلق کا آغاز سنہ 2013 کی فلم ’گولیوں کی راس لیلا، رام لیلا‘ سے ہوا، جس میں ان کی کیمسٹری کو بہت سراہا گیا۔ اس کے بعد تاریخی نوعیت کے واقعات پر مشتمل ’باجی راؤ مستانی‘ اور ’پدماوت‘ میں ان کی جوڑی نے خوب دھوم مچائی۔

تاہم ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے شادی سے چار برس قبل سنہ 2015 میں ہی چُپ چاپ مالدیپ میں منگنی کر لی تھی۔
سنہ 2024 میں ان کی بیٹی دعا کی پیدائش نے ان کی زندگی کی خوشیوں میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ دیپکا نے ماں بننے کے تجربے کو نہایت خلوص اور محبت کے ساتھ شیئر کیا، چاہے وہ بیٹی کی سالگرہ پر خود کیک بنانا ہو یا پیشہ ورانہ زندگی اور گھریلو ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا۔
دیپکا کی شخصیت کے کچھ دلچسپ پہلو انہیں مزید منفرد بناتے ہیں۔ وہ علم فلکیات میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور کائنات کے اسرار کو سمجھنے کے لیے ورکشاپس میں بھی شرکت کر چکی ہیں۔
انہیں روایتی کھانے بنانے کا بھی شوق ہے، اور وہ سادہ گھریلو لمحات کو اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کرتی رہتی ہیں۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ان کی گرم جوشی اور عاجزی کے قصے بھی اکثر منظرِ عام پر آتے رہتے ہیں۔ اب چاہے دہلی کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبا کے ساتھ یکجہتی دکھانے کے لیے وہاں پہنچنا ہو یا پھر سماجی ناانصافیوں پر کھل کر بولنا ہو۔
اب جبکہ وہ 40 برس کی ہو رہی ہیں وہ محض ایک فلمی ستارہ نہیں بلکہ ایک عالمی ثقافتی علامت بن چکی ہیں۔ بنگلورو کے بیڈمنٹن کورٹ سے لے کر بین الاقوامی ریڈ کارپٹ تک ان کا سفر حوصلے، خود اعتمادی اور مسلسل خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی مثال ہے۔ ذہنی صحت کے حوالے سے بیداری ہو، انڈین فیشن کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہو، یا اپنے خلوص سے لوگوں کے دل جیتنا ہو، دیپکا ہر میدان میں ایک متاثر کن مثال قائم کر رہی ہیں۔

وہ اس نئے برس میں ایک بار پھر شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’کنگ‘ میں نظر آنے والی ہیں جبکہ ’پٹھان 2‘، ’برہماستر ٹو: دیو‘ اور ’ٹائيگر ورسز پٹھان‘ میں بھی ان کی شمولیت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔












