سردیوں کی وہ غذائیں جن میں حرارت بھی اور توانائی بھی
تل سب سے زیادہ گرم رکھنے والی چیزوں میں شمار ہوتے ہیں (فوٹو: پیکسلز)
حکمت بھی انہی غذاؤں کی اہمیت پر زور دیتی ہے، کیونکہ یہ خون کی گردش بہتر کرتی ہیں اور جسمانی حرارت بڑھاتی ہیں۔
گھی
گھی کو ہمیشہ سردیوں کا بادشاہ مانا گیا ہے۔ اس میں موجود صحت مند چکنائی جسم کو توانائی دیتی ہے اور اندرونی حرارت پیدا کرتی ہے۔ روٹی، دال یا کھچڑی میں تھوڑا سا گھی ہاضمہ بہتر کرتا ہے، جو سردی میں سست پڑ جاتا ہے۔ بزرگ کہتے تھے کہ جب کھانا صحیح ہضم ہو، تو جسم زیادہ دیر تک گرم رہتا ہے۔
اجوائن
اجوائن ایک اور لازمی مصالحہ ہے۔ یہ ہاضمہ تیز کرتی ہے اور جسم کو اندر سے گرم رکھتی ہے۔ اسی لیے سردیوں میں اجوائن والے پراٹھے یا اجوائن کا پانی عام ہوتا ہے۔
تِل
تل سب سے زیادہ گرم رکھنے والی چیزوں میں شمار ہوتے ہیں۔ تل کے لڈو، چکّی یا چٹنی سردیوں میں توانائی اور حرارت فراہم کرتے ہیں۔ یہ جسم کی خشکی اور تھکن دور کرتے ہیں۔
باجرہ
باجرے کی روٹی بھی سردیوں کی پہچان ہے۔ یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے، جس سے جسم زیادہ توانائی خرچ کرتا ہے اور گرمی پیدا ہوتی ہے۔ باجرے کی روٹی پر گھی یا گڑ لگاکر کھانا سردی کا بہترین علاج ہے۔
ادرک
ادرک تو ہر گھر کا ہیرو ہے۔ چاہے چائے میں ڈالیں یا سالن میں، یہ خون کی گردش بہتر کرتی ہے اور ہاتھ پاؤں کی ٹھنڈک دور کرتی ہے۔
مونگ کی دال
آخر میں مونگ کی دال، جو ہلکی مگر گرم مصالحوں اور گھی کے ساتھ پکائی جائے تو جسم کو سکون اور حرارت دیتی ہے۔ کھچڑی یا دال کا سوپ سردیوں میں بہترین انتخاب ہے۔
یہ چھ دیسی غذائیں نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہیں بلکہ سردی کی سختی کو کم کرنے میں مددگار بھی ہیں۔ بزرگوں کی یہ حکمت آج بھی کارآمد ہے، کیونکہ قدرتی طریقے ہمیشہ دیرپا فائدہ دیتے ہیں۔
