پہلگام حملہ: انڈیا نے ’پاکستان میں موجود گروپ‘ پر مقدمہ درج کر دیا
پہلگام حملہ: انڈیا نے ’پاکستان میں موجود گروپ‘ پر مقدمہ درج کر دیا
پیر 15 دسمبر 2025 19:58
حملہ آوروں نے اپریل میں ایک حملے میں 26 افراد کو ہلاک کیا جن میں زیادہ تر ہندو سیاح تھے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی انسدادِ دہشت گردی ایجنسی (این آئی اے) نے کہا ہے کہ اس نے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق این آئی اے کے پیر کے بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے میں نامزد افراد میں سے تین ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو انڈیا کی حراست میں ہیں۔
حملہ آوروں نے اپریل میں ایک حملے میں 26 افراد کو ہلاک کیا جن میں زیادہ تر ہندو سیاح تھے، جس کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کئی روز تک جھڑپیں جاری رہیں۔
نئی دہلی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے پہلگام کے سیاحتی مقام پر حملے کی پشت پناہی کی تاہم اسلام آباد نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔
ایک خفیہ گروپ ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ نے ابتدائی طور پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
امریکہ نے دی ریزسٹنس فرنٹ کو لشکرِ طیبہ کا ’فرنٹ اور پراکسی‘ قرار دیا ہے جو اقوامِ متحدہ کی جانب سے پاکستان میں قائم ایک نامزد دہشت گرد تنظیم ہے۔
انڈیا کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی چارج شیٹ میں ’پاکستان کی سازش کی تفصیلات‘ شامل ہیں۔ ایجنسی کے بیان کے مطابق اس میں ’پابندی شدہ تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ لشکرِ طیبہ کو پہلگام حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور عمل درآمد میں کردار کے لیے ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔‘
این آئی اے نے کہا کہ ’پاکستانی ہینڈلر ساجد جٹ‘ پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے تاہم اس کے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
چارج شیٹ میں تین دیگر ’پاکستانی‘ عسکریت پسندوں فیصل جٹ عرف سلیمان شاہ، حبیب طاہر عرف جبران اور حمزہ افغانی کے نام بھی شامل ہیں۔
چار روزہ جھڑپ میں دونوں جانب 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
ایجنسی کے مطابق یہ تینوں افراد حملے کے چند ہفتے بعد انڈین سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کشمیر کے ایک جنگل میں مارے گئے۔
دو مقامی افراد، پرویز احمد اور بشیر احمد جوتھت، جنہیں جون میں حملہ آوروں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
22 اپریل کی ہلاکتوں کے بعد دونوں ایٹمی طاقتوں نے جوابی سفارتی اقدامات کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور میزائل، ڈرون اور توپوں کی شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ چار روزہ جھڑپ میں دونوں جانب 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔