بنگلہ دیش انتخابات: ابتدائی نتائج کے مطابق بی این پی اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ
جمعرات 12 فروری 2026 19:45
ناقدین کے مطابق حسینہ کے دور میں ہونے والے انتخابات اکثر بائیکاٹ اور دباؤ کے الزامات سے متاثر رہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش کے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق جمعرات کو ہونے والے بنگلہ دیش کے اہم قومی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔
یہ انتخابات 2024 میں جنریشن زی کی قیادت میں کامیاب تحریک کے بعد پہلے قومی انتخابات ہیں، جس نے طویل عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والی شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے ملک میں استحکام کے لیے واضح انتخابی نتیجہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ شیخ حسینہ مخالف مہلک مظاہروں نے کئی ماہ تک روزمرہ زندگی اور بڑی صنعتوں، خصوصاً گارمنٹس سیکٹر (جو دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے)، کو متاثر کیا۔
یہ دنیا بھر میں حالیہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی تحریکوں کے بعد پہلے قومی انتخابات ہیں، جبکہ نیپال میں بھی اگلے ماہ ووٹنگ متوقع ہے۔
الیکشن کمیشن حکام کے مطابق بیشتر پولنگ سٹیشنوں پر ووٹنگ ختم ہونے کے فوراً بعد شام 4:30 بجے (1030 جی ایم ٹی) گنتی شروع ہو گئی۔ واضح رجحانات آدھی رات تک سامنے آنے اور حتمی نتائج جمعہ کی صبح تک واضح ہونے کی توقع ہے۔
سابق اتحادیوں کے درمیان مقابلہ
یہ انتخاب دو سابق اتحادی جماعتوں، بی این پی اور جماعتِ اسلامی، کے اتحادوں کے درمیان ہو رہا ہے، اور رائے عامہ کے جائزوں میں بی این پی کو معمولی برتری حاصل دکھائی گئی ہے۔
مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق ابتدائی رجحانات میں تقریباً 20 نشستوں میں سے بی این پی 10 اور جماعتِ اسلامی 7 نشستوں پر آگے تھی۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ، جاتیہ سنگسد، کی کل 300 نشستیں ہیں اور سادہ اکثریت کے لیے 151 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
ٹرن آؤٹ 2024 کے گزشتہ انتخابات میں ریکارڈ کیے گئے 42 فیصد سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق 60 فیصد سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔
دونوں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار، بی این پی کے طارق رحمان اور جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمن، نے اپنی کامیابی پر اعتماد کا اظہار کیا۔
طارق رحمان نے صحافیوں سے کہا کہ ’مجھے اپنی جیت کا پورا یقین ہے۔ عوام میں ووٹنگ کے حوالے سے جوش و خروش پایا جاتا ہے۔‘
شفیق الرحمن نے انتخابات کو بنگلہ دیش کے لیے ’ایک اہم موڑ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
شیخ حسینہ نے انتخابات کو ڈھونگ قرار دیا
شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے، اور وہ اپنے طویل مدتی اتحادی ملک انڈیا میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس صورتِ حال نے چین کو بنگلہ دیش میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع دیا ہے، جبکہ ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔
ناقدین کے مطابق حسینہ کے دور میں ہونے والے انتخابات اکثر بائیکاٹ اور دباؤ کے الزامات سے متاثر رہے۔
واٹس ایپ کے ذریعے صحافیوں کو بھیجے گئے بیان میں حسینہ نے انتخابات کو ’سوچی سمجھی ڈھونگ بازی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی جماعت اور حقیقی عوامی شرکت کے بغیر منعقد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ کے حامیوں نے اس عمل کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’ہم اس بغیر ووٹر کے، غیر قانونی اور غیر آئینی انتخابات کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں… عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم کی جائے، اور غیر جانبدار نگراں حکومت کے تحت آزاد، منصفانہ اور جامع انتخابات کے ذریعے عوام کے ووٹ کا حق بحال کیا جائے۔‘
آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم
انتخابات کے ساتھ آئینی اصلاحات پر بھی ریفرنڈم منعقد ہوا، جن میں انتخابی مدت کے دوران غیر جانبدار عبوری حکومت کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانی نظام میں تبدیل کرنا، خواتین کی نمائندگی میں اضافہ، عدلیہ کی آزادی کو مضبوط بنانا اور وزیرِ اعظم کے لیے دو مدتوں کی حد مقرر کرنا شامل ہیں۔
بیلٹ پیپر پر 2,000 سے زائد امیدوار شامل تھے، جن میں بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی تھی، جبکہ کم از کم 50 جماعتوں نے حصہ لیا، جو ایک قومی ریکارڈ ہے۔ ایک حلقے میں ایک امیدوار کی وفات کے باعث ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔
