Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور سے ’برقعہ پوش ڈکیت‘ گرفتار، ’یہ دو بھائی خود کو میاں بیوی ظاہر کرتے تھے‘

پاکستان کے شہر لاہور کے علاقے فیصل ٹاؤن میں چند روز قبل ایک گھر میں ہونے والی ڈکیتی کی واردات نے پولیس کو ایک ایسے گروہ تک پہنچایا ہے جو برقعہ پہن کر خود کو میاں بیوی ظاہر کرتا اور گھروں کی ریکی کرنے کے بعد واردات انجام دیتا تھا۔
پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے تینوں ملزم آپس میں بھائی ہیں جو اب تک چوری اور ڈکیتی کی 47 سے زیادہ وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔
ماڈل ٹاؤن پولیس کے مطابق یہ واقعہ چند روز قبل پیش آیا۔ لاہور کے علاقے فیصل ٹاؤن میں واقع ایک گھر میں اس وقت دو افراد داخل ہوئے جب اہلِ خانہ گھر پر موجود تھے۔
تھانہ فیصل ٹاؤن میں درج مقدمے میں مدعی نے بتایا ہے کہ ’برقعہ پوش ایک مرد اور عورت گھر میں آئے اور خواتین سے موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے جبکہ انہوں نے اس دوران خواتین کو دھکے بھی دیے۔
بعد ازاں یہ معلوم ہوا کہ مبینہ ’برقعہ پوش عورت‘ دراصل ایک مرد تھا جو برقعہ پہن کر وارداتیں کیا کرتا تھا۔
ایس ایچ او فیصل ٹاؤن افضال رؤف نے اپنی ٹیم کے ساتھ تین رکنی گروہ کو گرفتار کیا۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی کا کہنا ہے کہ ’ملزموں کی گرفتاری جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس کیس کی تفتیش کے لیے انہوں نے ٹیم کو خصوصی ٹاسک دیا تھا جس کے بعد پولیس نے مختلف زاویوں سے شواہد جمع کیے۔‘
ترجمان ماڈل ٹاؤن پولیس عثمان لیاقت نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’گرفتار ملزموں کا تعلق لاہور سے ہی ہے اور یہ باقاعدہ طور پر ڈکیتی اور چوری کی وارداتیں کرتے تھے۔‘
وہ اس حوالے سے مزید بتاتے ہیں کہ ’بھائیوں میں سے ایک برقعہ پہنتا جبکہ دوسرا خود کو اس کا شوہر ظاہر کرتا تھا۔ یوں یہ موٹر سائیکل پر مختلف علاقوں میں گھروں کی ریکی کرتے تھے۔ یہ دونوں مناسب موقع دیکھ کر گھر میں داخل ہو جاتے اور اہلِ خانہ کو یرغمال بنا کر وارداتیں کیا کرتے تھے۔‘


ایس ایچ او فیصل ٹاؤن افضال رؤف نے اپنی ٹیم کے ساتھ تین رکنی گروہ کو گرفتار کیا (فوٹو: ویڈیو گریب)

’سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ملزموں کو گھر میں داخل ہوتے اور بعد ازاں فرار ہوتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہی فوٹیجز اور دیگر تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھایا گیا جس کے نتیجے میں تین بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔‘
گرفتار ملزموں کی شناخت عدیل، احمد اور عتیق کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق ان کے قبضے سے دو پستول اور موبائل فون بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
ابتدائی بیان میں ملزموں نے متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔
ترجمان ماڈل ٹاؤن پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ’یہ بھائی اسی طرح برقعہ پہن کر اب تک 47 وارداتیں انجام دے چکے ہیں۔‘
کیس کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’ملزموں کے سابقہ ریکارڈ اور دیگر ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں بھی چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ شہر میں ہونے والی دیگر وارداتوں کو بھی ٹریس کیا جا سکے۔‘

شیئر: