پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات اور پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس کے دروازے بند کیے جانے کے باعث تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ ڈی چوک پر دھرنا نہ دے سکے۔
جمعے کو تحریک تحفظ آئین کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر نکل کر ڈی چوک کی جانب جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے مرکزی دروازے بند کر کے انہیں روک دیا۔
اس جس کے بعد انہوں نے کیبنٹ بلاک کے اندر ہی دھرنا دے دیا اور وہیں بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا۔
مزید پڑھیں
احتجاج کرنے والے رہنماؤں اور اراکین پارلیمنٹ نے موقف اختیار کیا کہ عوامی نمائندوں کو پارلیمان سے باہر جانے سے روکنا جمہوری روایات کے منافی ہے۔
اس دوران مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ انہیں پُرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج آئینی اور قانونی دائرے میں ہے اور اسے طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش صورتحال کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہے۔
ریڈ زون میں کیا ہوتا رہا؟
اسلام آباد کے ریڈ زون میں جمعے کے روز اس وقت کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی جب پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچا دی گئیں۔
ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور تک تمام راستے بند کر دیے گئے اور ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔
پولیس کی جانب سے کسی بھی شہری یا رکن اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔
ریڈیو پاکستان چوک پر پولیس نے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو روک لیا۔
دوسری جانب پارلیمنٹ لاجز میں بھی صورتحال کشیدہ رہی جہاں پولیس اور پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی آمنے سامنے آگئے۔ پارلیمنٹ لاجز کے دروازے بند کر دیے گئے اور پی ٹی آئی کے ایم این ایز کو دھرنے میں شرکت کے لیے باہر جانے سے روکا گیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر موجود ارکان ریلی کی شکل میں باہر آئے تو احتجاج کی قیادت سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کر رہے تھے جبکہ مظاہرین میں محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر بھی شامل تھے۔
مرکزی گیٹ سے باہر نکلنے میں ناکامی پر اپوزیشن اراکین مرکزی گیٹ سے کیبنٹ گیٹ کی طرف روانہ ہوئے اور بعد ازاں پارلیمنٹ کے احاطے کے اندر ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دے دیا۔
مظاہرین ایوان صدر کو جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ان کا دھرنا پُرامن ہو گا اور مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ان کے ذاتی معالج اور اہل خانہ کی ملاقات کروائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے بتایا گیا کہ عمران خان کی صحت بہتر ہے، ملک میں اچھے ڈاکٹرز موجود ہیں اور ان کا مناسب علاج کرایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو الجھانے کے بجائے حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کو عملاً جیل میں تبدیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ دورانِ حراست غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپیلیں زیر التوا ہیں اور پارلیمنٹیرینز کو پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر جانے سے روکنا عوامی نمائندوں کے بنیادی حقِ اجتماع اور اظہارِ رائے پر قدغن کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق بعض اراکین کو پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس اسلام آباد تک محدود کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں، جس سے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔













