Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی

اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں وزیراعظم کی پیشکش کا جواب دیا گیا۔ فائل فوٹو
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔
اپوزیشن اتحاد کے ترجمان مصطفٰی نواز کھوکھر نے کہا کہ وزیراعظم کے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بیان کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ ’مایوسی کے خاتمے کے لیے نئے میثاق کی اشد ضروت ہے۔‘
بدھ کی رات جاری کیے گئے بیان میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ اپوزیشن اتحاد آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے۔
بیان کے مطابق اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس میں اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی، وائس چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، ساجد ترین اور حسین یوسفزئی نے شرکت کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے نئے میثاق بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
اجلاس میں اپوزیشن کی دو روزہ قومی کانفرنس اور 8 فروری یوم سیاہ پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔‘
بیان کے مطابق 8 فروری کو ملک بھر اور دنیا میں یوم سیاہ اور ہڑتال کی حکمت عملی پر غور کیا گیا اور اسی دوران وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش بھی زیرِغور آئی۔
اپوزشین اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کے لیے نئے میثاق کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
شفاف انتخابات، نئے الیکشن کمشنر اور پارلیمانی بالادستی نئے میثاق کا حصہ ہوں گے۔ آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر ڈائیلاگ کے لیے آمادگی ظاہر کی گئی۔‘
بیان کے مطابق اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے 1973 کے آئین پر تمام جماعتوں کے اتفاق پر زور دیا اور نئے میثاق پر عمران خان کے دستخط کرانے کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔
اپوزیشن اتحاد نے کہا ہے کہ 8 فروری کے یوم سیاہ کو کامیاب بنانے کے لیے صوبائی اور ضلعی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

 

شیئر: