’سیاحوں کے لیے سہولت‘، زیارت میں پہلی بار ٹورازم پولیس کا قیام
’سیاحوں کے لیے سہولت‘، زیارت میں پہلی بار ٹورازم پولیس کا قیام
ہفتہ 14 فروری 2026 5:25
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع زیارت میں پہلی بار ٹورازم پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت، رہنمائی اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
زیارت کے ضلعی پولیس سربراہ ایس پی سردار ایاز خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ زیارت صوبے کے اہم سیاحتی مراکز میں شامل ہے جہاں نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر سے بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں مگر انہیں رہنمائی اور سہولیات کے حوالے سے کئی مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ اسی ضرورت کے پیش نظر ٹورازم پولیس یونٹ قائم کیا گیا ہے۔
ایس پی سردار ایاز خان کے مطابق اس یونٹ میں کل 28 اہلکار شامل ہیں جن کے انچارج ایک انسپکٹر ہوں گے۔ اس کے علاوہ تین سب انسپکٹرز اور چھ خواتین اہلکار بھی اس میں تعینات ہیں۔ اہلکاروں کو خصوصی یونیفارم اور موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ زیارت کے دور دراز علاقوں میں بھی گشت کر سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹوررازم پولیس اہلکاروں کو ایک ہفتے کی خصوصی تربیت بھی دی گئی ہے جس میں بات چیت کی مہارت، سیاحوں خصوصاً فیملیز کے ساتھ بہتر پیش آنے، ہنگامی حالات میں ریسکیو، گاڑیوں کی چھوٹی مرمت اور برفباری میں پھسلن سے بچاؤ کے طریقے سکھائے گئے ہیں۔
ان کے مطابق یونٹ میں ماہر ڈرائیورز بھی شامل ہیں جو سیاحوں کی گاڑی میں چھوٹی خرابی کی صورت میں فوری مدد فراہم کریں گے۔ ٹورازم پولیس کے اہلکاروں کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور انہیں مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور انہیں زیارت کے اہم سیاحتی مقامات جیسے چکور تنگی، پراسپیکٹ پوائنٹ اور چوتیر پر تعینات کیے گئے ہیں جہاں رش زیادہ ہوتا ہے۔
ایس پی پولیس کے مطابق زیارت کے داخلی راستے پر ایک سہولت مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں سیاح رہائش، کھانے پینے، راستوں اور دیگر خدمات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ سیاحوں کے لیے ہیلپ لائن 0833560207 بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ کسی بھی مدد یا رہنمائی کے لیے رابطہ کیا جا سکے۔
سردار ایاز خان نے بتایا کہ ٹورازم پولیس کا مقصد صرف سیاحوں کی حفاظت نہیں بلکہ ان کے مسائل کے حل اور بروقت معلومات کی فراہمی بھی ہے تاکہ سیاحت کو فروغ مل سکے۔
سردار ایاز خان کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس کے اہلکار یہ مدد پہلے بھی فراہم کرتے تھے (فوٹو: سردار ایاز خان)
ان کا کہنا تھا کہ ہر سال گرمیوں میں یہاں رش زیادہ ہوتا ہے۔ تہواروں اور مخصوص ایام میں سیاحوں کی تعداد بڑھنے سے ٹریفک اکثر بلاک ہو جاتی ہے، جبکہ سردیوں میں برفباری کے مناظر دیکھنے کے لیے ملک بھر سے خاص طور پر کراچی سے بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ برفباری میں گاڑیاں پھنس جاتی تھیں اور بعض سیاحوں کو رہائش نہیں ملتی تھیں یا ہوٹلوں اور ریسٹورانٹس میں زائد نرخ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
سردار ایاز خان کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس کے اہلکار یہ مدد پہلے بھی فراہم کرتے تھے مگر اب باقاعدہ پولیس یونٹ قائم کرنے اور اہلکاروں کو تربیت دینے سے سیاحوں کو بہتر انداز میں رہنمائی اور مدد فراہم کی جاسکے گی۔ ٹورازم پولیس سیاحوں کو ہوٹلوں، ریسٹورانٹس، کھانے پینے، رہائش ،راستوں اور سیاحتی مقامات کے بارے میں معلومات دے گی اور مقررہ نرخ سے زائد رقم لینے کی شکایات کی صورت میں متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر بھی کارروائی کرے گی۔
مقامی شہری اور سیاح اس اقدام کو سراہ رہے ہیں۔ سیاح عبداللہ نے کہا کہ زیارت ایک خوبصورت مقام ہے اور یہاں سہولیات کی موجودگی سے سیاحوں اور مقامی لوگوں دونوں کو فائدہ ہوگا۔ اس طرز کی پولیس پورے صوبے کے سیاحتی مقامات پر تعینات ہونی چاہیے۔
زیارت کوئٹہ سے شمال میں تقریباً 130 کلومیٹر کے فاصلے پر سطح سمندر سے تقریباً 25 سو میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں شدید گرمیوں میں بھی موسم معتدل رہتا ہے جبکہ سردیوں میں برفباری اور سخت سردی ہوتی ہے ۔ برفباری دیکھنے ملک بھر خاص کر کراچی سے سیاح خصوصی طور پر یہاں آتے ہیں۔
زیارت کی نمایاں تاریخی اور سیاحتی عمارتوں میں قائداعظم ریزیڈنسی شامل ہے جہاں بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنے آخری ایام گزارے۔ اس کے علاوہ یہاں سیب، چیری، خوبانی اور آلوچہ کے باغات بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں جن کے ذائقے پورے ملک میں مشہور ہیں۔
ایس پی ایاز خان نے کہا کہ ٹورازم پولیس کے قیام سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا (فوٹو: سردار ایاز خان)
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق زیارت میں ایک لاکھ دس ہزار ہیکٹر پر پھیلا صنوبر کا جنگل دنیا کا دوسرا سب سے بڑا صنوبر کا جنگل واقع ہے جس میں بعض درخت 15 سو سال سے زیادہ قدیم ہیں۔ یہ جنگلات نایاب جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کا مسکن بھی ہیں۔
ایس پی ایاز خان نے کہا کہ ٹورازم پولیس کے قیام سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا جس سے زیارت کی مقامی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ باقی ملک میں ٹوررازم پولیس پہلے سے موجود پے تاہم بلوچستان میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی ٹوررازم پولیس ہے - ان کے بقول یہ یونٹ اپنی مدد آپ کے تحت اور پہلے سے دستیاب وسائل کی مدد سے قائم کیا گیا ہے اور حکومت کی معاونت سے اسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔