Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد: عمران خان کا مکمل علاج نہ کرانے پر اپوزیشن کا دھرنا جاری، ’ہمارا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا ہے‘

’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے ترجمان کے مطابق ان تک کھانا اور پانی نہیں پہنچ رہا (فوٹو: ٹی ٹی آئی پی)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا مکمل علاج کروانے کے لیے جمعے کو شروع ہونے والا اپوزیشن کا دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ہمراہ ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے پلیٹ فارم سے یہ احتجاج کر رہی ہے۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کرنے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کے مطالبات کے ساتھ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کی کال دی تھی جس میں اپوزیشن اراکین کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
اس کال کے بعد اسلام آباد پولیس نے ریڈزون میں واقعہ پارلمینٹ لاجز، خیبر پختنخواہ ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود پارلمینٹرینز کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچنے سے روکنے کے لیے تینوں جگہوں کو بند کر دیا تھا۔
پولیس کے اس اقدام کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے تینوں جگہوں یعنی پارلمینٹ لاجز، خیبر پختنخواہ ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنہ دے دیا تھا۔
’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی نے بتایا ہے کہ وہ 40 سے 50 افراد کے ہمراہ پارلیمنٹ میں محصور ہیں اور ان تک کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ادوایات تک نہیں پہنچنے دی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ 24 گھنٹوں سے عمران خان کی الشفاء ہسپتال میں فوری منتقلی کے لیے دھرنے پر ہیں۔ اسلام آباد پولیس نے ہمارا سب کچھ بند کر رکھا ہے، ہمیں کھانا اور پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ کے پی کے ہاؤس سے  ہمیں کھانا فراہم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔‘
دوسری جانب سنیچر کو اپوزیشن رہنما مصطفی نواز کھوکر بھی کھانا اور پانی لے کر پارلیمنٹ پہنچے لیکن انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ میں موجود دوستوں کے لیے کھانا اور پانی پہنچانے آیا ہوں۔ اگر مجھے اندر جانے کی اجازت نہیں بھی دی جا رہی تو کوئی بات نہیں، لیکن کھانے اور پانی کو اندر جانے سے روکنا انتہائی بے حسی ہے۔‘

شیئر: