نورین کے شوہر محسن جان صبح ہوتے ہی اپنی موٹرسائیکل سٹارٹ کر رہے ہیں۔ ان کی جیب میں ایک چھوٹا سا کاغذ ہے جس پر نورین نے رات بھر بیٹھ کر بچوں کے لیے ضروری یوٹیوب ویڈیوز کے حوالے (لنکس) لکھے ہیں۔
محسن جان صبح ہوتے ہی وہی کاغذ جیب میں رکھے بلوچستان کے ضلع خضدار میں بازار کی طرف جا رہے ہیں جہاں ایک دکان کے باہر لگے وائی فائی راؤٹر کے ذریعے وہ ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کریں گے۔
یہ محسن جان کی روزمرہ زندگی ہے۔ وہ ایک ٹرانسپورٹر ہیں جبکہ ان کی اہلیہ اپنے گھر پر ہی مقامی بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ بس ڈرائیور ہونے کے باوجود انہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ صرف روزگار ہی نہیں بلکہ کسی بڑے مقصد کی تکمیل کے لیے سفر کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
’سیاحوں کے لیے سہولت‘، زیارت میں پہلی بار ٹورازم پولیس کا قیامNode ID: 900648
علاقے میں انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ روزانہ اپنی اہلیہ کی بتائی ہوئی ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کر کے انہیں فراہم کرتے ہیں تاکہ بچوں کو نئی دنیا سے بھی متعارف کروایا جا سکے۔
بلوچستان کے ضلع خضدار کے ایک گاؤں باجکی میں نورین محسن جان اپنے گھر کے زیر تعمیر مہمان خانے(بیٹھک) میں مقامی بچوں کو تعلیم دے رہی ہیں۔ باجکی میں چند گھروں کا جھنڈ، دھول بھری گلیاں اور مواصلات کی کمی بلوچستان کے کئی دیہات کی طرح یہاں بھی معمول ہے لیکن باجکی گاؤں کے ایک بیٹھک میں نورین اس علاقے کی تقدیر بدلنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہیں۔
نورین نے اس حوالے سے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس پورے علاقے میں کوئی سکول نہیں ہے۔ صرف ایک سرکاری سکول ہے جس کی عمارت تو قائم ہے لیکن وہاں کوئی جاتا نہیں۔ یہ سب مجھ سے نہیں دیکھا گیا اور میں نے یہ قدم اٹھایا تاکہ جس علاقے میں میں موجود ہوں کم از کم اس علاقے کے بچے تو تعلیم حاصل کر لیں۔‘
28 سالہ نورین محسن جان نے بلوچستان یونیورسٹی سے سنہ 2018 میں بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ رواں سال مئی کے مہینے میں انہوں نے باجکی کے ایک ٹرانسپورٹر محسن جان سے نکاح کیا۔ ان کے شوہر صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں اور خضدار سے کراچی تک بس چلاتے ہیں۔
نورین نے شادی کے بعد اپنے علاقے پر تحقیق شروع کی۔ وہ اس حوالے سے بتاتی ہیں کہ ’جب میری شادی ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ اس علاقے میں کوئی فعال سکول نہیں ہے۔ میں نے گھر گھر جا کر والدین اور بچوں کا سروے کیا اور والدین کو بتایا کہ ان کے بچے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ میری خوش نصیبی تھی کہ علاقے کے تمام لوگوں نے میری بات مانی۔ یہاں بچے الف ب تک نہیں جانتے تھے۔ یہ وہ بچے تھے جنہیں کبھی کسی سکول کی شکل دیکھنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔‘

نورین کے مطابق شادی سے پہلے بھی ان کے سسرال والوں نے انہیں بتایا تھا کہ وہ ان کے لیے ایک سکول کا اجراء کریں گے تاکہ اس علاقے کے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں۔
نورین بتاتی ہیں کہ ’مجھے سسرال والوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ کے آتے ہی ہم یہاں سکول شروع کریں گے لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے وہ سکول اب تک شروع نہ ہوسکا۔‘
نورین نے کئی ماہ سروے کرنے کے بعد اپنے شوہر کے سامنے تجویز رکھی کہ گھر کے زیر تعمیر مہمان خانے میں ہی بچوں کو پڑھانے کا بندوبست کیا جائے۔ وہ اس حوالے سے بتاتی ہیں کہ ’شادی سے پہلے میرے ذہن میں ایسا کوئی خیال نہیں تھا لیکن یہاں کے بچوں کو دیکھ کر لگا کہ انہیں تعلیم کی سخت ضرورت ہے تاکہ یہ باشعور ہوں۔ میں نے شوہر کو بتایا تو وہ فوری مان گئے۔‘
نورین کے شوہر گھر کے بیٹھک میں ہی سکول بنانے پر راضی ہوئے لیکن سکول بنانا اور بچوں کو روزانہ یہاں لانا کسی مشن سے کم نہ تھا جس کے لیے وہ فکر مند تھیں۔ اس احساس نے انہیں قریب کے گاؤں میں رہنے والی اپنی سہیلی شیما تک پہنچایا۔ شیما نے انہیں مقامی سیاسی و سماجی شخصیت سر منظور سے ملوایا۔ ان کی رہنمائی اور مدد سے نورین نے اکتوبر 2025 میں اپنے گھر کے بیٹھک میں ہی ایک نان فارمل سکول قائم کیا۔ اس سکول میں اس وقت وہ گاؤں کے 30 بچوں کو روزانہ پڑھاتی ہیں۔

نورین کو اپنے اس سفر میں سب سے مضبوط سہارا اپنے سسرال سے ملا۔ ان کے گھر کا مہمان خانہ ہمیشہ مہمانوں سے آباد رہتا تھا لیکن اب بچوں کی آوازوں سے گونج رہا ہے۔ اس حوالے سے نورین بتاتی ہیں کہ ’یہی بیٹھک اب میرا سکول ہے۔ میرے سسرال والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ دن میں یہاں مہمان نہ لائے جائیں تاکہ بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔‘
جب نورین نے سکول کا خیال اپنے شوہر سے پہلی بار شیئر کیا تو انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ خیال پورے علاقے کو بدل دے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’شوہر نے بتایا کہ یہاں کے بچے اردو نہیں بول سکتے۔ الف ب بھی نہیں جانتے۔ سب نے مجھے سپورٹ کیا تو مجھے بھی ہمت مل گئی۔ صرف ایک مہینے میں انہیں بچوں میں حیرت انگیز تبدیلی نظر آئی۔‘
مہمان خانے میں قائم اس سکول کے بچوں میں تبدیلی تو نظر آرہی ہے لیکن وہ اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بچوں کو ابتدائی دنوں میں سٹیشنری فراہم کرنے سے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ ’جب میں نے پہلی بار بچوں کو کاپیاں اور سٹیشنری دی تو ان کی خوشی قابل دید تھی۔ اب یہ بچے بار بار پوچھتے ہیں کہ انہیں یونیفارم کب ملے گا؟ وہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی باقی بچوں کی طرح سکول جائیں اور یونیفارم پہنیں۔‘

نورین محسن جان اس سے قبل نجی اداروں میں پڑھا چکی ہیں۔ اس لیے انہیں نان فارمل ایجوکیشن کا نظام چلانے میں دشواری نہیں ہوئی۔ اپنے نصاب اور طریقہ تدریس سے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ ’یہ ایک نان فارمل سکول ہے جہاں نیشنل بک فاؤنڈیشن کا سلیبس پڑھایا جاتا ہے۔ تین سال میں ہم ان بچوں کو پرائمری امتحان کے قابل بنا دیں گے۔ یہاں انہیں بنیادی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ یہ بچے کم از کم تعلیمی سفر میں ہمارے ساتھ جڑ جائیں۔‘
جب نورین علاقے میں سروے کر رہی تھیں تو اس وقت انہیں ایک اور حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ نورین کے بقول ’سروے کے دوران معلوم ہوا کہ صرف چھوٹے بچے ہی نہیں بلکہ بڑی عمر کی بچیاں بھی تعلیم سے محروم ہیں۔ کئی لڑکیاں 18 سال سے زائد عمر کی ہیں لیکن انہوں نے آج تک کچھ نہیں پڑھا۔ اب وہ چاہتی ہیں کہ وہ بھی پڑھیں۔ یہ سب اسی بیٹھک سکول کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔‘
نورین کا خواب ان بچوں کو صرف پرائمری تک لانا نہیں بلکہ میٹرک تک پہنچانا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ باجکی کے بچے دیگر بچوں کی طرح میٹرک تک تعلیم حاصل کر کے کالج اور یونیورسٹی تک پہنچے تاکہ وہ بھی اپنے خواب پورے کر سکیں۔













