Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اپوزیشن کا دھرنا جاری،حکومت کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش اور اپوزیشن رہنماؤں کے احتجاجی دھرنے کے باعث وفاقی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک طرف جہاں پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ’تحریک تحفظِ آئین پاکستان‘ کے پلیٹ فارم سے احتجاج کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف عمران خان کی اپنے بیٹوں سے طویل عرصے بعد ٹیلی فون پر بات چیت بھی کروائی گئی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سنیچر کو عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومتی موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عمران خان کی آنکھوں کے جاری علاج کے سلسلے میں ان کا مزید معائنہ اور علاج ماہرینِ چشم کے ذریعے ایک سپشلائزڈ طبی مرکز میں کیا جائے گا۔‘
عطا اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں بھی جمع کرائی جائے گی۔ گزارش ہے کہ اس معاملے پر قیاس آرائیوں، مفروضوں اور اسے ذاتی مفادات کے لیے سیاسی رنگ دینے یا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔‘

عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے: طارق فضل چوہدری
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ’عمران خان کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور ان کی صحت کے پیش نظر انہیں ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔‘
طارق فضل چوہدری نے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر کہا کہ ’حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے۔ ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف کو چاہیے بے بنیاد پروپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے گریز کریں۔ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔‘
عمران خان کی بیٹوں سے 20 منٹ تک بات کروائی گئی: علیمہ خان
دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے تصدیق کی کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں سابق وزیراعظم کی ان کے بیٹوں سے بات کروائی گئی ہے۔
علیمہ خان نے لکھا ’چیف جسٹس آف پاکستان نے ہدایت دی تھی کہ عمران خان کو ان کے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ان کی اپنے بیٹوں سے قریباً 20 منٹ تک بات چیت ہوئی ہے۔‘
ان کے مطابق ’عمران خان کے بیٹوں نے بتایا کہ ایک طویل عرصے کے بعد اپنے والد کی آواز سن کر وہ بے حد خوش تھے۔‘ تاہم انہوں نے عمران خان کی بینائی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہ کہ ’اب ہمیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی ان کے فوری طبی علاج کا انتظار ہے، جہاں ماہر ڈاکٹروں کو ان کی بینائی کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘

’بروقت علاج فراہم کرنے میں دانستہ تاخیر کی وجہ سے ان کی بینائی کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے۔ ہم مزید کسی بھی تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور بینائی کے مستقل ضیاع کو روکنے کے لیے فوری طور پر ماہرانہ طبی امداد ضروری ہے۔‘
عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین اور اہل خانہ کی موجودگی میں کیا جائے: پی ٹی آئی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سنیچر کی شب اپنے بیان میں ’بانی چیئرمین عمران خان کی خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کسی نامعلوم مقام یا ہسپتال منتقلی کی ممکنہ منصوبہ بندی‘ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’آئین اور جیل قوانین کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
پارٹی کا مطالبہ ہے کہ ’سابق وزیراعظم کا کوئی بھی طبی معائنہ یا علاج صرف ان کے ذاتی معالجین اور اہل خانہ کی موجودگی میں ہی کیا جائے جبکہ کسی بھی قسم کی رازداری یا یکطرفہ حکومتی اقدام کو ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔‘
اعلامیے میں سپریم کورٹ کے تحریری احکامات میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ’اگر عمران خان کی صحت یا سلامتی کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہو گی۔‘
پارلیمنٹ کے باہر دھرنا اور ’محصور‘ رہنما
اسلام آباد میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب جمعرات کو اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے مطالبے کے ساتھ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کی کال دی۔
اس کے بعد پولیس نے پارلیمنٹ لاجز، خیبر پختونخوا ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے راستوں کو بند کر دیا جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے وہیں دھرنا دے دیا۔
’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی نے اردو نیوز کے نامہ نگار ثوبان افتخار راجہ کو بتایا کہ وہ درجنوں افراد کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس میں محصور ہیں اور ان تک کھانا، پانی اور ادویات نہیں پہنچنے دی جا رہیں۔

پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں کو پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاجی دھرنا جاری ہے (فوٹو: اردو نیوز)

 سابق رکنِ پارلیمنٹ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی احتجاجی رہنماؤں کے لیے کھانا پہنچانے کی کوشش کی تاہم انہیں ریڈ زون میں داخلے سے روک دیا گیا جسے انہوں نے ’انتہائی بے حسی‘ قرار دیا۔
عوام پاکستان پارٹی کی احتجاج میں شمولیت
اس احتجاج میں اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جماعت ’عوام پاکستان پارٹی‘ نے بھی شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔
پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر ظفر مرزا نے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ریڈ زون کو ’جیل‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے لیکن وہ آئین کی بالادستی کے لیے اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔
عمران خان کی صحت اور بینائی کا معاملہ اس وقت عدالتِ عظمیٰ اور عوامی احتجاج دونوں جگہوں پر زیرِ بحث ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طبی معاملات کو قواعد کے مطابق دیکھ رہی ہے۔

شیئر: