پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں قائم باچا خان یونیورسٹی میں انڈیا کا قومی ترانہ گانے کے الزام پر طلبہ کے خلاف سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دو روزہ فیسٹیول کے دوران چند طلبہ نے نہ صرف انڈیا کا قومی ترانہ گایا بلکہ ’جے ہند‘ کے نعرے بھی لگائے۔
اس واقعے کی ویڈیو طلبہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی جس کے بعد معاملہ شدت اختیار کر گیا۔
مزید پڑھیں
-
خیبر پختونخواہ: مقامی حکومتیں کتنی مفید؟Node ID: 430861
ویڈیو وائرل ہونے پر مختلف طلبہ تنظیموں نے احتجاج کیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ انڈیا کی مبینہ حمایت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
طلبہ تنظیموں کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد جامعہ کے اندر ریاست کے حق میں مظاہرے بھی کیے گئے۔
دوسری جانب طالب علم جبران ریاض کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔
انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ترانہ محض تفریح کی غرض سے گایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح طلبہ انڈین گانے سنتے ہیں، اسی طرح یہ بھی ایک پرفارمنس تھی۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’ان کا انڈیا سے کوئی ہمدردی یا وابستگی نہیں اور وہ اپنے ملک اور مسلح افواج کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘
طلبہ کا یونیورسٹی سے اخراج
انڈیا کا ترانہ گانے کے الزام میں باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے شعبہ فارمیسی کے چار طلبہ کو یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں فن فیئر کے دوران انڈین قومی ترانہ گایا گیا، pic.twitter.com/Sp0Y4wug80
— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) February 12, 2026












