Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا کا قومی ترانہ گانے کے الزام میں چارسدہ یونیورسٹی سے چار طلبہ خارج

طلبہ تنظیموں کی جانب سے انڈین ترانہ گانے کے عمل پر شدید ردعمل سامنے آیا (فائل فوٹو: پختونخواہ اُلسی تحریک)
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں قائم باچا خان یونیورسٹی میں انڈیا کا قومی ترانہ گانے کے الزام پر طلبہ کے خلاف سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ  دو روزہ فیسٹیول کے دوران چند طلبہ نے نہ صرف انڈیا کا قومی ترانہ گایا بلکہ ’جے ہند‘ کے نعرے بھی لگائے۔
اس واقعے کی ویڈیو طلبہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی جس کے بعد معاملہ شدت اختیار کر گیا۔
ویڈیو وائرل ہونے پر مختلف طلبہ تنظیموں نے احتجاج کیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ انڈیا کی مبینہ حمایت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
طلبہ تنظیموں کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد جامعہ کے اندر ریاست کے حق میں مظاہرے بھی کیے گئے۔
دوسری جانب طالب علم جبران ریاض کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔
انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ترانہ محض تفریح کی غرض سے گایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح طلبہ انڈین گانے سنتے ہیں، اسی طرح یہ بھی ایک پرفارمنس تھی۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’ان کا انڈیا سے کوئی ہمدردی یا وابستگی نہیں اور وہ اپنے ملک اور مسلح افواج کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

طلبہ کا یونیورسٹی سے اخراج

انڈیا کا ترانہ گانے کے الزام میں باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے شعبہ فارمیسی کے چار طلبہ کو یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ یونیورسٹی ڈسپلنری کمیٹی کے 73ویں اجلاس کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلبہ نے جامعہ کی حدود کے اندر انڈیا کا قومی ترانہ مبینہ طور پر ایسے انداز میں پیش کیا جس سے بدامنی پھیلنے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ مزید یہ کہ واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔
یونیورسٹی سے خارج کیے گئے طلبہ کی ہاسٹل کی رہائش بھی منسوخ کر دی گئی ہیں اور انہیں فوری طور پر کمرے خالی کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

شیئر: