Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبر پختونخوا میں دو دھماکے: تین افراد ہلاک، 20 سے زائد زخمی

دونوں دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں اتوار کی شام پیش آنے والے دو الگ الگ دھماکوں میں حکام کے مطابق کم از کم تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ20  سے زائد زخمی ہوئے۔
پیر کو پہلا دھماکہ ضلع باجوڑ کی تحصیل سلارزئی کے ایک دور افتادہ علاقے میں ہوا، جہاں بچوں کو زمین سے غیر دھماکہ شدہ مارٹر شیل ملا جسے وہ گھر لے آئے، مگر یہ لاپرواہی ایک بڑے سانحے میں بدل گئی۔
رات گئے شیل اچانک پھٹنے سے ایک گھر لرز اٹھا، ایک شخص ہلاک اور نو افراد زخمی ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں میں خواتین، مرد اور بچے شامل تھے۔ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا۔
بنوں میں پیش آنے والا دوسرا دھماکہ مزید ہولناک تھا۔ شہر کے مصروف علاقے میں موٹرسائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول بم اس وقت پھٹ گیا جب پولیس سٹیشن کے قریب مارکیٹ میں لوگ موجود تھے۔
دھماکے میں دو شہری موقع پر دم توڑ گئے جبکہ12  افراد زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق موٹرسائیکل دکانوں کے سامنے کھڑی کی گئی تھی اور بظاہر پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
دونوں دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی نے سرحد پار محفوظ ٹھکانے قائم کر لیے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

واضح رہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرحدی علاقوں، خصوصاً سابق قبائلی اضلاع میں، زیادہ تر کارروائیوں کا ہدف پولیس اور سیکیورٹی فورسز بنتی رہی ہیں۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے افغانستان میں دوبارہ منظم ہونے کے بعد سرحد پار محفوظ ٹھکانے قائم کر لیے ہیں، جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے۔
تاہم کابل اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔

 

شیئر: