برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پیر کو پاسدارانِ انقلاب نے بھی آبنائے ہرمز میں بھی مشقوں کا آغاز کیا جسے خطے میں موجود امریکی بحری افواج کے لیے ایک چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق مشقوں کے ترجمان ریئر ایڈمرل حسن مقصودلو نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقیں جمعرات کو بحیرۂ عمان اور شمالی بحرِ ہند میں منعقد ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’ان مشقوں کا مقصد سمندری سلامتی کو مضبوط بنانا اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعلقات کو گہرا کرنا ہے‘ تاہم انہوں نے مشقوں کی مدت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
یہ جنگی مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران نے منگل کو عمان کی ثالثی میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد مثبت انداز اختیار کیا ہے۔
اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جون 2025 میں اسرائیل کے غیر معمولی حملے کے بعد ختم ہو گئی تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی اور امریکہ نے بھی مختصر طور پر اس میں حصہ لیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں سب سے بڑی بحری فوج تعینات کر رکھی ہےجسے انہوں نے ’آرماڈا‘ یعنی ایک بڑا بحری بیڑا قرار دیا ہے۔
ایران نے منگل کو عمان کی ثالثی میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد مثبت انداز اختیار کیا (فوٹو: اے پی)
ایرانی حکام ماضی میں امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے دوران بارہا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، تاہم اسے کبھی مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
ماضی میں یہاں کئی واقعات پیش آ چکے ہیں اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوران بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث یہ راستہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
ایران نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی مشقوں کے دوران سکیورٹی وجوہات کی بنا پر چند گھنٹوں کے لیے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کرے گا۔