انڈیا: ’چینی روبوٹ کو اپنا بنا کر پیش کرنے‘ پر یونیورسٹی کو اے آئی سمٹ سے نکلنے کا حکم
انڈیا: ’چینی روبوٹ کو اپنا بنا کر پیش کرنے‘ پر یونیورسٹی کو اے آئی سمٹ سے نکلنے کا حکم
بدھ 18 فروری 2026 12:50
گیلگوٹیاس یونیورسٹی کی پروفیسر نے ایک روبوٹ کے حوالے سے میڈیا کو بتایا تھا کہ اسے گیگوٹیاس یونیورسٹی کے سینیٹر نے تیار کیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا کے دو حکومتی سورسز نے کہا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہونے والی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمٹ میں چین کے روبوٹک ڈاگ کو اپنی تخلیق کے طور پر پیش کرنے والی یونیورسٹی کو سٹال خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رواں ہفتے کمیونیکیشنز کی پروفسر نیہا سنگھ نے ریاستی ٹی وی ڈی ڈی نیوز کو بتایا تھا کہ ’اورین سے ملیے جس کو گیلگوٹیاس یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس نے تیار کیا ہے۔‘
یہ تبصرہ نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گیا تھا۔
جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے جلد روبوٹ کی شناخت یونیٹری گو ٹو کے طور پر کی، جس کو چین کی کمپنی دو ہزار آٹھ سو ڈالر میں فروخت کرتی ہے اور عالمی طور پر تعلیمی اور تحقیق کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اس کے بعد صارفین کی جانب سے تنقید کا سلسلہ شروع ہوا اور اس کو انڈیا کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
یہ صورت حال اس وقت مزید گمبھیر ہو گئی جب آئی ٹی کے وزیر اشوانی ویشناؤ نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے اس ویڈیو کو شیئر کر دیا اور شدید تنقید سامنے آنے کے بعد اسے ڈیلیٹ کیا۔
اس کے بعد گیلگوٹیاس یونیورسٹی اور پروفیسر نیہا سنگھ کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ روبوٹ یونیورسٹی نے نہیں بنایا اور کبھی اس کا دعویٰ بھی نہیں کیا گیا۔
پیر سے شروع ہونے والی اے آئی سمٹ سنیچر تک جاری رہے گی (فوٹو: اے ایف پی)
اس پر بھی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو گئی کیونکہ سٹال وزیٹرز کے لیے کھلا رہا اور وہاں پہنچنے والوں نے بھی موقع پر موجود عملے سے سوال جواب کا سلسلہ شروع کر دیا۔
چند گھنٹے قبل ایک نمائندے ایک مقامی صحافی کو بتایا تھا کہ ابھی تک یونیورسٹی کو سرقے یا غلط بیانی کے حوالے سے آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی ایونٹ سے نکالے جانے کے حوالے سے کچھ بتایا گیا ہے۔
خیال رہے انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں اے آئی سمٹ کا آغاز پیر کے روز ہوا تھا اور اس کا سلسلہ سنیچر تک جاری رہے گا، یہ آئی ٹی کے حوالے سے ملک میں ہونے والی اب تک کا سب سے بڑا ایونٹ ہے جس میں جمعرات کو وزیراعظم نریندر مودی، گوگل کے سندر پچائی، اوپن اے آئی کے سیم الٹ مین اور اینتھروپک کے ڈاریو امودی خطاب کریں۔
وہاں جانے والے کچھ لوگوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سمٹ شروع ہونے کے بعد تنظیمی مشکلات کا شکار دکھائی دی۔
رپورٹس کے مطابق سمٹ کے دوران انڈیا میں آئی سیکٹر میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جس میں اڈانی گروپ، مائیکرو سافٹ، ڈیٹا سینٹر فرم یوٹا کے معاہدے شامل ہیں۔
ایونٹ کا افتتاح وزیراعظم نریندر مودی نے کیا تھا (فوٹو: انڈین میڈیا)
خیال رہے پیر کو وزیراعظم نریندر مودی نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ سمٹ اے آئی سکیورٹی، غلط معلومات، ڈیپ فیکس، بچوں کی آن لائن حفاظت اور ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی جیسے موضوعات پر ڈیبیٹ بھی ہو رہی ہے۔
اقدام کا مقصد عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی حکمرانی اور تعاون کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ تیار کرنا ہے۔
افتتاح کے موقع پر نریندر مودی نے کہا تھا کہ ’یہ موقع اس بات کا ثبوت ہے کہ انڈیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور یہ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اظہار بھی ہے۔‘