Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ناقص انتظامات اور رات سڑک پر‘، پاکستان ہاکی ٹیم نے آسٹریلیا میں کن حالات کا سامنا کیا؟

پرو لیگ کے دوران ہاکی ٹیم کو رہائش اور کھانے کے مسائل کا سامنا رہا (فائل فوٹو: پاکستان ہاکی ٹیم)
آسٹریلیا میں جاری ہاکی پرو لیگ کے دوران مشکلات کا سامنا کرنے والی پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے ٹیم مینجمنٹ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپتان عماد بٹ نے بتایا کہ جب وہ آسٹریلیا پہنچے تو ہوٹل بکنگ نہ ہونے کی وجہ سے کئی گھنٹے تک سڑکوں پر خوار ہوتے رہے۔ 
اس سے قبل خبریں سامنے آئی تھیں کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران کھلاڑیوں کو رہائش اور کھانے پینے کی سہولیات میسر نہیں تھیں، جس پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ نے نوٹس لیا تھا۔

کپتان عماد بٹ کے الزامات

کپتان عماد بٹ نے کہا کہ ’سات سال بعد ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ کے لیے کوالیفائی کرنا ایک بڑی کامیابی تھی، مگر آسٹریلیا پہنچنے کے بعد سڈنی ایئرپورٹ پر 13 گھنٹے تک ہمیں لاوارثوں کی طرح انتظار کرنا پڑا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہوبارٹ سے آنے والی تمام خبریں درست تھیں، کھلاڑیوں کو بات کرنے سے روکا گیا اور کہا گیا کہ معاملہ انڈیا تک پہنچ جائے گا۔‘
ان کے مطابق ’کھلاڑیوں کو اپنا ناشتہ خود بنانا اور برتن خود دھونا پڑے، جبکہ مناسب آرام نہ ملنے کے باوجود ٹیم نے بہترین کھیل پیش کیا۔‘
عماد بٹ کا کہنا تھا کہ ’ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے پوچھا کہ وہ مینجمنٹ کے ساتھ ہیں یا ان کے ساتھ، موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ ٹیم آگے نہیں بڑھ سکتی اور اگر یہی صورتحال رہی تو کھلاڑی ہاتھ کھڑے کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘

کھلاڑیوں کے واجبات اور دیگر شکایات

ہاکی پلیئر محمد حنان نے کہا کہ ’آسٹریلیا پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہوٹل بکنگ ہی موجود نہیں تھی اور ایک دو روز تک ٹیم کو سڑکوں پر رہنا پڑا۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’سنہ 2023 کے ڈیلی الاؤنسز تاحال ادا نہیں کیے گئے اور پاکستان ہاکی فیڈریشن پر 30 لاکھ روپے سے زائد واجبات باقی ہیں۔‘
رانا وحید نے بھی کہا کہ ’واجبات کی عدم ادائیگی کے باوجود کھلاڑی ملک کی خاطر آسٹریلیا گئے، مگر موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں۔‘
کپتان عماد بٹ نے مزید کہا کہ ’پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈی جی کی جانب سے 115 ڈالر ڈیلی الاؤنس کا اعلان کیا گیا، مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کھلاڑی اپنے الاؤنس سے تین وقت کا کھانا خود خریدیں۔‘
ان کے مطابق ’معلوم نہیں ذمہ داری ہاکی فیڈریشن کی ہے یا پاکستان سپورٹس بورڈ کی، کیونکہ دونوں ادارے ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے ہیں۔‘

آئندہ کا لائحہ عمل

کھلاڑیوں نے واضح کیا کہ پانچ روز بعد ورلڈ کپ کوالیفائر راؤنڈ ہے اور اگر انتظامی مسائل حل نہ ہوئے تو ٹیم کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستان ہاکی کی بہتری کے لیے میرٹ اور تعلیم یافتہ افراد کو آگے لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

کوچز کا اعتراض

پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچ طاہر زمان نے بدھ کو لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے میڈیا سے بات کرنے پر اعتراض اٹھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’کوئی ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے، کس نے کہاں میڈیا سے کیا بات کرنی ہے؟ ضابطہ اخلاق سب کے لیے ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’انسان کو اپنی بساط کے مطابق بات کرنی چاہیے، ہم نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے، رپورٹ میں ہم نے تمام حقیقت لکھ دی ہے، رپورٹ پر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے فیصلہ کرنا ہے، اچانک ایسا کیا ہوا کہ ٹیم مینیجمنٹ بُری ہو گئی، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان ٹیم ورلڈ کپ کے لی کوالیفائی کرے۔‘

پاکستان سپورٹس بورڈ کا مؤقف

ڈائریکٹر پاکستان سپورٹس بورڈ لاہور نورش صباح نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’کھلاڑیوں کو آسٹریلیا میں ناقص انتظامات کا سامنا رہا۔ اگر پلیئرز کو معیاری رہائش، خوراک اور بنیادی سہولیات نہ ملیں تو وہ بہتر کارکردگی کیسے دکھا سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان سپورٹس بورڈ کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہاکی فیڈریشن کو حکومت کی جانب سے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔ ٹیم کی ناقص کارکردگی اور انتظامی امور پر ہاکی فیڈریشن کا آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔‘

 

شیئر: