دورۂ آسٹریلیا میں بدانتظامی: پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ آمنے سامنے
بدھ 18 فروری 2026 16:09
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
قومی ہاکی ٹیم ایف آئی ایچ پرو لیگ میں شرکت کے بعد آسٹریلیا سے وطن واپس پہنچ چکی ہے، تاہم اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ ہاکی ٹیم کے دورے کے دوران شدید انتظامی مسائل کیوں پیش آئے؟
ان سوالات کا جواب جاننے کے لیے اردو نیوز نے پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ سے رابطہ کیا تو دونوں اداروں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر طارق بگٹی نے ہاکی ٹیم کے دورۂ آسٹریلیا کے دوران پیش آنے والے مسائل کا ذمہ دار سپورٹس بورڈ کو قرار دیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل ہاکی ٹیم کے دس ٹور کروا چکے ہیں لیکن کبھی اس نوعیت کا مسئلہ پیش نہیں آیا، تاہم اس مرتبہ انتظامی مسائل کی ذمہ داری پاکستان سپورٹس بورڈ کی تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے 25 کروڑ روپے پاکستان سپورٹس بورڈ کو فراہم کیے گئے تھے، اور قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ رقم پاکستان سپورٹس بورڈ کے پاس ہی رہے گی۔
تاہم سپورٹس بورڈ کی جانب سے بروقت ادائیگیاں نہیں ہو سکیں اور موقع پر جا کر بھی ادائیگی نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں بنیادی مسائل پیدا ہوئے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اس معاملے میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کردار کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کا کام صرف ٹیم تیار کرنا اور اس کی منیجمنٹ تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈریشن کی اپنی کمیٹی بھی ایک رپورٹ مرتب کر رہی ہے جو وزیراعظم کو پیش کی جائے گی، جبکہ ہاکی ٹیم کے کھلاڑی بھی اُن سے ملاقات کے لیے آ رہے ہیں۔
ہاکی فیڈریشن کو 49,280 ڈالر ادا کیے گئے: سپورٹس بورڈ
دوسری جانب پاکستان سپورٹس بورڈ کے ترجمان راجہ محمد شفیق نے ہاکی فیڈریشن کے مؤقف کی سختی سے تردید کی ہے۔
اُنہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے آسٹریلیا میں ڈبل ٹری بائی ہلٹن ہوٹل میں رہائش کے لیے درخواست جمع کروائی تھی، جس کے جواب میں پیشگی طور پر 49,280 امریکی ڈالر فیڈریشن کو ادا کیے گئے تھے۔ یہ رقم 12 ڈبل آکیوپینسی کمروں اور 2 سنگل آکیوپینسی کمروں کے اخراجات کے لیے تھی۔
اُنہوں نے اردو نیوز کو ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جمع کروائی گئی انوائس اور دی گئی رقم کی دستاویزات بھی فراہم کیں۔
جس کے مطابق پاکستان سپورٹس بورڈ نے 28 جنوری 2026 کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے لیے ایک چیک جاری کیا، جس کی رقم تقریباً 1.06 کروڑ روپے ہے۔ یہ رقم غیر ترقیاتی گرانٹ کے طور پر دی گئی تھی جو صرف فیڈریشن کے اکاؤنٹ میں جمع کی جا سکتی تھی۔
کھانے کی مد میں فی کس 1,610 ڈالر دیے گئے
سپورٹس بورڈ کی جانب سے اردو نیوز کو فراہم کی گئی تفصیلات میں مزید بتایا گیا کہ ہاکی فیڈریشن کو کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے تین کھانوں کی مد میں فی کس 1,610 امریکی ڈالر بطور یومیہ الاؤنس بھی ادا کیے گئے تھے۔
ترجمان سپورٹس بورڈ کے مطابق، ’چونکہ رہائش کے اخراجات کی مکمل رقم پیشگی طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ادا کر دی گئی تھی، اس لیے یہ فیڈریشن کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسی ہوٹل میں رہائش کا انتظام کرتی جس کے لیے انوائس جمع کروائی گئی اور جس کے خلاف ادائیگی کی گئی۔‘
پاکستان سپورٹس بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹیم آسٹریلیا پہنچنے کے بعد اس ہوٹل میں نہیں ٹھہری جس کے لیے پیشگی ادائیگی کی گئی تھی، اور اگر ادا شدہ رقم کے برعکس کسی متبادل رہائش کا انتظام کیا گیا تو اس کی ذمہ داری اور وضاحت پاکستان ہاکی فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔
بورڈ کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم نے ایف آئی ایچ پرو لیگ سیزن سیون (فیز ٹو) کے لیے ہوبارٹ پہنچنا تھا۔ ٹیم کی روانگی 2 فروری 2026 کو لاہور سے ہونا اور 4 فروری کو ہوبارٹ پہنچنا طے تھا، تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے ویزا درخواستوں میں تاخیر اور غلطیوں کے باعث 2 فروری کی روانگی منسوخ ہو گئی۔
مؤقف میں مزید بتایا گیا کہ اس صورتِ حال میں پاکستان سپورٹس بورڈ نے مداخلت کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا، جس نے معاملہ آسٹریلوی ہائی کمیشن کے ساتھ اٹھایا، جس کے بعد ویزا درخواستیں دوبارہ جمع کروائی گئیں اور پراسیس ہوئیں۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر ٹیم 5 فروری کو روانہ ہوئی اور 7 فروری کو ہوبارٹ پہنچ گئی۔
بورڈ کے مطابق اصل فضائی ٹکٹوں کی لاگت 2.71 کروڑ روپے پاکستان سپورٹس بورڈ نے برداشت کی، جبکہ ویزا سے متعلق بدانتظامی کے باعث مزید 0.97 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ بھی اٹھانا پڑا۔
پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نومبر 2025 میں پاکستان ہاکی ٹیم کے بنگلہ دیش کے دورے کے دوران بھی متعلقہ ہوٹل کو 573 امریکی ڈالر کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ اس کا علم پاکستان سپورٹس بورڈ کو صرف سفارتی ذرائع کے ذریعے ہوا، کیونکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے خود اس کی اطلاع نہیں دی تھی۔ بعد ازاں یہ بقایا رقم ادا کی گئی۔
واضح رہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کے حالیہ دورۂ آسٹریلیا کے دوران کئی انتظامی اور مالی مسائل سامنے آئے، جنہوں نے نہ صرف ٹیم کی تیاری بلکہ کارکردگی اور مورال کو بھی متاثر کیا۔
ٹیم نے ایف آئی ایچ کے میچز کھیلنے کے لیے ہوبارٹ، آسٹریلیا کا دورہ کیا، تاہم روانگی سے قبل ہی ویزا معاملات میں تاخیر اور غلطیوں کے باعث شیڈول متاثر ہوا۔
اس کے علاوہ آسٹریلیا میں رہائش کے انتظامات کے حوالے سے بھی تنازع سامنے آیا۔ ایک ہی کمرے میں کئی کھلاڑیوں کو رہنا پڑا۔ اس صورتِ حال نے کھلاڑیوں میں بے چینی پیدا کی اور تیاری متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
کھلاڑیوں کو یومیہ الاؤنس اور کھانے پینے کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے متعدد مواقع پر ٹیم کی مدد کی، تاکہ کھلاڑیوں کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں اور وہ تربیت اور میچز کے لیے تیار رہیں۔
گزشتہ روز قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں اور کپتان نے آسٹریلیا سے واپسی پر پریس کانفرنس میں بھی بدانتظامی اور ناقص سہولیات کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ٹیم کے کپتان عماد بٹ کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران کھلاڑیوں کو مناسب رہائش نہیں دی گئی اور کھانے پینے کے معیاری انتظامات بھی ناکافی تھے، جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جبکہ آج لاہور میں پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچز طاہر زمان، ذیشان اشرف اور محمد عثمان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہوٹل کی بروقت بکنگ نہ ہونے اور سہولیات کی کمی کے باعث ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم مقیم پاکستانی کمیونٹی نے مدد فراہم کی۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹیم کا مقصد ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ ہے اور کھلاڑیوں کو ڈسپلن اور کوڈ آف کنڈکٹ پر عمل کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کے دورۂ آسٹریلیا کے دوران پیش آنے والے مسائل کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نے بھی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
